بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
زکوۃ کی رقم سے فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانا
سوال
زکوۃ کی رقم سے فقراء اور مساکین کے لیے دعوت کرنا اور ان کو کھانا کھلانا جائز ہے یا نہیں؟اور اس سے زکوۃ ہو گی یا نہیں ۔
جواب
شرعی نقطہ نظر سے زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک ضروری ہے۔بغیر تملیک کسی فقیر کو کھانا کھلانے سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی اور اس ذمہ فارغ نہیں ہو گا۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق زکوۃ کی رقم سے اگر کھانا تیار کرکے دسترخوان پر فقراء اور مساکین کو بٹھایا جائے ، تو اس میں چونکہ تملیک نہیں پائی جاتی ، اس لیے اس طرح کھانا کھلانےسے زکوۃ ادا نہ ہوگی، البتہ اگر یہ رقم فقراء کو دی جائے اوروہ خود اپنے لیے کھانے کا بندوبست کریں یا ان کے لیے کھانا خرید کر ان کو اس کامالک بنادیا جائے ، تو پھر زکوۃ کی ادائیگی درست رہے گی ۔
(هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم. (قوله: إلا إذا دفع إليه المطعوم) لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه فيصير آكلا من ملكه، بخلاف ما إذا أطعمه معه، ولا يخفى أنه يشترط كونه فقيرا.(رد المحتار مع الدر المختار ،كتاب الزكاة،ج:٢،ص:٢٥٧)