بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
وکیل کابغیر اجازت کے عورت کانکاح کرانا
سوال
اگرایک عورت کا نکاح وکیل کے ذریعے سے اس طورپر منعقد کیا جائےکہ اس عورت نے نکاح کے وکیل کو پہلے سے صراحتا اجازت نہ دی ہولیکن بعد میں پتہ چلنے پر یہ عورت اس کی وکالت پر راضی ہوجائے،البتہ وکیل بغیر استیذان صریح کے اس عورت کا نکاح کرائے تو کیاایسا نکاح منعقد ہوگا یانہیں؟
جواب
واضح رہےکہ عورت جس طرح خود اپنا نکاح کرسکتی ہے،اسی طرح کسی دوسرے کو بھی وکیل بناسکتی ہے،نیز عورت جس طرح نکاح سے پہلے وکیل بنا سکتاہےاسی طرح اجنبی شخص کا بغیر اجازت کے نکاح کرانے کی صورت میں عورت بعد میں بھی اجازت دی سکتی ہے،اور بعد میں اجازت دینے سے اجنبی شخص کا کیاہوا نکاح منعقد ہوجائے گا۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگرعورت نے نکاح کرانے سے پہلے کسی کو صراحتا اجازت نہ دی ہو،اور پھر کوئی اجنبی شخص اس عورت کی طرف سےوکیل بن کرنکاح کرائے، تو بعد میں پتہ چلنے پراگر عورت اپنے نکاح پر رضامندی کا اظہار کرے تو نکاح منعقد ہوجائےگی۔
زوج رجل امرأة بغير إذنها فقالت: لم يعجبني ما فعل أو قالت: مراخوش نيا مداين كار [مجھے یہ پسند نہ آیا] لا يكون ردا حتى لو رضيت بعد ذلك ينفذ النكاح، كذا في الفصول العمادية ... رجل زوج امرأة من رجل بغير أمرها فبلغها الخبر فقالت: باك نيست[کوئی حرج نہیں] فهذا إجازة هكذا ذكر الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - وكان الفقيه أبو جعفر - رحمه الله تعالى - يفتى به، كذا في الذخيرة.( الفتاوى الهندية، کتاب النکاح، الباب الرابع: في الأولیاء في النکاح، الباب السادس: في الوکالة بالنکاح وغیرها، ج:1، ص:299)
الإجازة اللاحقة كالإذن السابق.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب النکاح، فصل بیان شرائط الجواز والنفاذ، ج:2، ص:237)
الإجازة اللاحقة كالوكالة السابقة.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب النکاح، باب الأولياء والأکفاء، فصل في الوکالة بالنکاح وغیرها، ج:2، ص:134)