بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تین طلاق کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرنا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہوئی ہیں اب  بیوی پہلے شوہر  سےدوبارہ  نکاح کرنا چاہتی ہے، تو اس کاطریقہ کار کیا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے  تواب یہ عورت اس کےلیے حلال نہیں ہے البتہ اگر وہ عورت عدت گزارے پھر  اپنی مرضی واختیار سے کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کرے اورجماع (مباشرت) کے بعد وہ دوسرا شوہراپنے اختیار سے  اس کو طلاق دےدےیا فوت ہوجائے، تواب عدت سے فارغ ہونے کے بعد یہ عورت پہلے شوہر کےلیے حلال ہوگی،لہذا اگر چاہے تو اس کے ساتھ   دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔

صورت مسئولہ میں اس شخص کی بیوی پہلے شوہر سے عدت گزارنے کے بعد  اگردوسرےشخص  سے نکاح کرےاور جماع کے بعد   دوسرا شخص اپنے اختیار سے طلاق دے دے تو  عدت گزرانے کے بعد یہ عورت پہلے شوہرکےلیے حلال ہوجائے گی،لیکن اس بات کا لحاظ رکھاجائے کہ دوسرے شخص سے  نکاح کے وقت حلالہ کی کوئی  شرط نہ لگائی گئی ہو،ورنہ حدیث میں مذکور وعید کامستحق ٹھہرے گا۔

 

عن ابن عباس، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌المحلل، ‌والمحلل ‌له».(سنن ابن ماجه، کتاب النکاح، باب المحلل والمحلل له، رقم الحدیث: 1934، ج:1، ص:622)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ... والشرط الإيلاج دون الإنزال لأنه كمال ومبالغة فيه والكمال قيد زائد... وإذا تزوجها بشرط التحليل فالنكاح مكروه "لقوله عليه الصلاة والسلام " لعن الله المحلل والمحلل له " وهذا هو محمله". (الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل فیما تحل به المطلقة، ج:2، ص:257)


فتویٰ نمبر : 7216/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور