بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میت کے لیے تیسرے اور چالیسویں دن خیرات کرنا


سوال

اگر کوئی وفات پا جائے تو اس کے بعد تیسرا کرنا، چالیسواں کرنا، سال کرنا،  اس قسم  کے خیرات میں شریک ہونا اور کھانا کیسا ہے؟

جواب

کسی میّت کے ایصالِ ثواب کےلیے تیسرا، چالیسواں یا کوئی بھی دن ایصال ثواب کے لیے مخصوص کرناشریعت میں ثابت نہیں، مسلمان کا  فرض ہے کہ غمی ہو یا خوشی کسی حال میں بھی دین کے احکامات سے رو گردانی نہ کرے، بلکہ ہر خوشی و غم کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم کو سامنے رکھ کر اس پر چلنے کی پوری کوشش کرے۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق غم کے موقع پر غیر شرعی رسومات و بدعات ناجائز ہیں،میت کے لیے  ایصالِ ثواب ہر وقت ، ہر موقع پر کرنا جائز ہے، اور میت کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے،  لیکن اس کے لیے تیسرے دن، چالیسویں دن ،اور سال کی تخصیص کرنا شرعاً  ثابت نہیں ہےجہاں اس کو ضروری سمجھا جاتاہواور شرکت نہ کرنے والوں کو طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑتاہوتو وہاں اس سے احتراز لازم ہے۔

 

ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور،وهي بدعة مستقبحة وقوله: ویکره اتخاذ الطعام في الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع، ونقل الطعام إلی القبرفي المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقرّآء للختم أو لقراء ة سورة الإنعام أوالإخلاص.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،کتاب الصلاة،باب صلاةالجنازة،مطلب في كراهةالضیافةمن أهل المیت،ج:2،ص:240)

ومنها:الوصیة من المیت باتخاذ الطعام والضیافة یوم موته أو بعده و بإعطاء دراهم  من یتلو القرآن لروحه أو یسبح و یهلل له، وکلها بدع منکرات باطلة، والماخوذ منها حرام للاٰخذ، وهو عاص بالتلاوة والذکر.( ردالمحتار على الدر المختار،ج:6،ص:33)


فتویٰ نمبر : 6340/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور