بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
قعدہ اولیٰ میں درود پڑھنا
سوال
چار رکعت والی نماز میں اگر کوئی غلطی سے قعدہ اولیٰ میں درود پڑھ لے تو کیا اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ سجدہ سہو واجب امور کے ترک کرنے سے یا مؤخر کرنے سے اوریا رکن کی تاخیر سے واجب ہوتا ہے۔ قعدہ اولی میں تشہد پڑھنے کی بقدر بیٹھنا واجب ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص تین یا چار رکعت کی نماز پڑھ رہا ہو لیکن قعدہ اولیٰ میں تشہد پورا کر لینے کے بعد قیام کے لیے کھڑا ہونے کی بجائے درودشریف پڑھنا شروع کردے اور "علی محمد" تک درود پڑھ لے تو اس کا یہ فعل تاخیر رکن شمار ہو گالہذا سجدہ سہو واجب ہوگا۔
لو كرر التشهد في القعدة الأولى، فعليه السهو لتأخير القيام،ولو كذا لو صلى على النبي-صلى الله عليه وسلم- فيها لتأخيره.واختلفوا في قدره،والأصح وجوبه باللهم صل على محمد، وإن لم يقل "وعلى آله".(البحر الرائق، کتاب الصلوة، باب سجودالسهو، ج:2، ص:166)