بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

امام صاحب کا کینولاکےساتھ نماز پڑھانا


سوال

اگرامام صاحب بیمار ہو، اور ڈاکٹر نے ٹیکے یا ڈریپ لگانے کی غرض سے کینولا لگادیا ہو، تو امام صاحب  اس کینولا کے ساتھ نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر  کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے پٹی پر یا موزہ وغیرہ پرمسح کرے تو شرعاً وہ غاسل(یعنی اعضاء دھونے والے) کے حکم میں ہوتا ہے، لہٰذا ایسے شخص کی امامت میں عام مقتدیوں(اعضا دھونے والوں) کی نماز درست ہے۔

صورتِ مسؤلہ میں اگر امام صاحب کو بیماری کی وجہ سے ڈاکٹر نے ٹیکے یا ڈریپ لگانے کی غرض سے کینولا لگا دیا ہو، اور وہ دورانِ وضو اس پر مسح کرتا ہو، تو اس کا وضو ٹھیک ہے، لہٰذا اس کی امامت بھی شرعاً درست ہے، اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز ہے۔

 

(وصح اقتداء غاسل بماسح) على خف أو جبيرة أو خرقة قرحة لا يسيل منه شيء. (مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ص:112)

(وصح اقتداء متوضئ) لا ماء معه (بمتيمم) لو مع متوضئ بسؤر حمار. مجتبى (وغاسل بماسح) ‌ولو ‌على ‌جبيرة. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1،ص:588)

(قوله ‌ولو ‌على ‌جبيرة) الأولى قوله في الخزائن على خف أو جبيرة، إذ لا وجه للمبالغة هنا أيضا، لأن المسح على الجبيرة أولى بالجواز، لأنه كالغسل لما تحته. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1،ص:588)


فتویٰ نمبر : 10596/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور