بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
بیوی سے تم میری طرف سے فارغ ہو، کہنےسے طلاق کا حکم
سوال
ایک شخص نےجھگڑے کے دوران بیوی سے کہا کہ "تم میرے سے طلاق نہ لے لینا" اور پھر مزید بحث کے بعد میاں نے اپنی بیوی سے کہا کہ: "تم میری طرف سے فارغ ہو، تم میری طرف سے فارغ ہو، تم فارغ ہو" جب کہ شوہر کا کہنا ہے کہ میری طلاق کی نیت بالکل بھی نہیں تھی اب مجھے اس بارے میں آگاہ کریں کہ کیا یہ طلاق ہو چکی ہے یا نہیں؟
جواب
طلاق کنائی کے وہ الفاظ جو گالی گلوچ اور رد کا معنی نہ رکھتے ہوں تو ایسے الفاظ اگرغصہ کی حالت میں یا مذاکرہ طلاق میں کہے گئے ہوں تو ان سے بغیر نیت کے ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق جب شوہرحالت ِغضب اور مذاکرہ طلاق کے دوران اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ ’’تم میری طرف سے فارغ ہو‘‘تو ان الفاظ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی۔البتہ دوسری اور تیسری مرتبہ پر الفاظ لغو ہوں گے کیونکہ طلاق بائن کے بعد پھر کنائی بائن واقع نہیں ہوتی۔
رد وجواب بسب وجواب جواب فقط اخرجي اذهبي خلية برية اعتدي استبرئي رضا تلزم النية تلزم النية تلزم النية غضب تلزم النية تلزم النية يقع بلا نية مذاكرة تلزم النية يقع بلا نية يقع بلا نية.(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:4،ص:534)
والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إن كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة، مثل أن يقول في عرف ديارنا: رها كنم أو في عرف خراسان والعراق بهشتم؛ لأن الصريح لا يختلف باختلاف اللغات وما كان في الفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام.(بدائع الصنائع،كتاب الطلاق،فصل في شرط النية في الطلاق،ج:4،ص:225)
ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية.(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الطلاق، ج:4،ص:464)
البائن لا يلحق البائن والمراد بالبائن الذي لا يلحق البائن الكناية المفيدة للبينونة بكل لفظ کان.(البحرالرائق ،كتاب الطلاق باب الكنايات في الطلاق، ج:3،ص:534)