بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
’’الدنيا مزرعۃ الآخرۃ‘‘ کی اِسنادی حیثیت
سوال
آج کل خطبا حضرات جمعہ کےبیانات میں آخرت کی تیاری کےحوالےسےیہ حدیث ذکرفرماتےہیں: الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ،جو میں نےبعض کتب میں دیکھابھی ہےکیایہ حدیث مستند کتب حدیث میں موجود بھی ہےیانہیں؟
جواب
واضح رہے کہ "الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ" (دنیا آخرت کی کھیتی ہے) کتبِ وعظ میں حدیث کےعنوان سےموجودہے، مگر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث کسی صحیح سند کے ساتھ مروی نہیں ،علامہ سخاویؒ، ملا علی قاریؒ، اور دیگر نے واضح کیا ہے کہ یہ حدیث مرفوعاً ثابت نہیں، بلکہ بعض کتب میں بلا سند ذکر کی گئی ہے، جو کہ حدیث کے طور پر اس کے قابلِ قبول ہونے میں مانع ہے۔
البتہ اس عبارت کا مفہوم درست اور قرآن و سنت کے موافق ہے۔ جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ﴾(الشورى:20)یعنی: "جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرے، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے۔"
لہٰذا اس عبارت کو بطورِ حکمت و نصیحت کے بیان کیا جا سکتا ہے، مگر بطورِ حدیثِ نبوی بیان کرنا درست نہیں۔
حَدِيث:الدّنيا مزرعة الآخرة، لم أقف عليه مع إيراد الغزالي له في الإحياء، وفي الفردوس بلا سند عن ابن عمر مرفوعا: الدنيا قنطرة الآخرة فاعبروها، ولا تعمروها، وفي الضعفاء للعقيلي ومكارم الأخلاق لابن لال من حديث طارق بن أشيم رفعه: نعمت الدار الدنيا لمن تزود منها لآخرته، الحديث. وهو عند الحاكم في مستدركه وصححه، لكن تعقبه الذهبي بأنه منكر قال: وعبد الجبار يعني راويه لا يعرف.(المقاصد الحسنة، الباب الأول، حرف الدال، ص: 351)
حديث الدنيا مزرعة الآخرة قال السخاوي لم أقف عليه) .المصنوع في معرفة الحديث الموضوع، حرف الدال المہملۃ،ص:101(