بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بازو پر نام لکھنا


سوال

ایک شخص نے اپنے بازو پر نام لکھوایاہے جو جلد میں پیوست ہوتا ہے یہ لکھوانا کیساہےاور وہ شخص امامت بھی کراتا ہے اُسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا  ہےاور اس حالت میں کیا وضو وغسل ہوجاتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جسم گودنے اوراس پر نام لکھوانے کا مطلب یہ ہے کہ جسم کے کسی حصے پر سوئی وغیرہ چبھوئی جائے،یہاں تک کہ خون بہنے لگے اور اس حصہ میں معمولی سا سراخ بن جائے،پھر اس میں نیل یا سرمہ بھر دیا جائے،یہ زمانہ جا ہلیت کی ایک رسم ہے اور شریعت نےاس کو حرام قرار دیا ہے، نیز رسول اللہ ﷺ نے گُدنے اور گُدوانے والوں پر لعنت بھیجی ہے،البتہ اگر کسی مسلمان نے نا سمجھی سے گدوایا ہو اورعلاج و معالجہ کے ذریعے سے اس کا ازالہ ممکن ہو تو اس نشان یا نام کا مٹانا ضروری ہے،البتہ اگر کسی حرج کے بغیر اس کا ازالہ ممکن نہ ہو یا جسم میں زخم  کا  بڑھ جانے  کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں اس کا ازالہ واجب نہیں ،تا ہم اللہ تعالی سے اس کی معافی مانگنا اور توبہ واستغفار کرنا  چاہیے۔

صورت مسؤلہ میں اگر چہ  گُدنے اور گُدوانے والوں پر لعنت بھیجی گئی  ہے لیکن اگر کوئی شخص اس عمل کا ارتکاب کرنے کے بعد اس سے توبہ تائب ہو جائے توایسے شخص کی امامت کرنا شرعاجائزہے نیز ایسی حالت میں اس کے ساتھ وضو اور غسل کرنا بھی درست ہے ۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (‌لعن ‌الله ‌الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة.(صحيح البخاري، كتاب اللباس، باب الوصل في الشعر،ج:5،ص:2216،رقم الحديث:5589)

أن التضييق في الشرع مدفوع مرفوع فلا تكليف الا بحسب الوسع اي الطاقة والقدرة الممكنة وتندرج تحت قاعدة المشقة تجلب التيسير.( القواعد الفقهية، رقم القاعدة:25، مفاد القاعدة، ج:5، ص:107 )

‌يستفاد ‌مما ‌مر ‌حكم ‌الوشم في نحو اليد، وهو أنه كالاختضاب أو الصبغ بالمتنجس؛ لأنه إذا غرزت اليد أو الشفة مثلا بإبرة ثم حشي محلها بكحل أو نيلة ليخضر تنجس الكحل بالدم، فإذا جمد الدم والتأم الجرح بقي محله أخضر، فإذا غسل طهر؛ لأنه أثر يشق زواله؛ لأنه لا يزول إلا بسلخ الجلد أو جرحه، فإذا كان لا يكلف بإزالة الأثر الذي يزول بماء حار أو صابون فعدم التكليف هنا أولى، وقد صرح به في القنية فقال: ولو اتخذ في يده وشما لا يلزمه السلخ اهـ. لكن في الذخيرة: لو أعاد سنه ثانيا ونبت وقوي، فإن أمكن قلعه بلا ضرر قلعه وإلا فلا وتنجس فمه، ولا يؤم أحدا من الناس اهـ. أي: بناء على نجاسة السن وهو خلاف ظاهر المذهب. وقال العلامة البيري: ومنه يعلم حكم الوشمة، ولا ريب في عدم جواز كونه إماما بجامع النجاسة. ثم نقل عن شرح المشارق للعلامة الأكمل أنه قيل: يصير ذلك الموضع نجسا، فإن لم يمكن إزالته إلا بالجرح فإن خيف منه الهلاك أو فوات عضو لم تجب وإلا وجبت، وبتأخيره يأثم، والرجل والمرأة فيه سواء،(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الطھارۃ،مطلب فی حکم الوشم،ج:1ص538)


فتویٰ نمبر : 6336/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور