بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دس محرم (عاشوره) کا روزہ رکھنا


سوال

کیا صرف دس محرم کا روزہ رکھا جاسکتا ہے یا اس کے ساتھ نو یا گیارہ محرم کا روزہ رکھنا بھی ضروری ہے؟

جواب

عاشورہ کا روزہ رسولِ اکرم ﷺ کے قول و عمل سے ثابت ہے، البتہ جب رسول اکرم ﷺ کو بتلایا گیا کہ یہود شکرانہ کے طور پر عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں تو رسولِ اکرم ﷺ نے آئندہ سال عاشورہ کے روزہ کے ساتھ نو محرم کو بھی روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا جس کی بنا پر فقہاءِ کرام نے عاشورہ کے ساتھ نو محرم کے روزہ کو مستحب قرار دیا ہے اور مشابہتِ یہود کی بنا پر صرف عاشورہ کا روزہ رکھنے کو مکروہِ تنزیہی قرار دیا ہے، تاہم اگر کسی بنا پر تین یا دو روزے رکھنا دشوار ہو تو صرف عاشورہ کا روزہ رکھ لینا چاہیے؛ تاکہ اس کی فضیلت سے محرومی نہ ہو۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں: عاشوراء کے روزہ کی تین شکلیں ہیں: (۱) نویں، دسویں اور گیارہویں تینوں کا روزہ رکھا جائے، (۲) نویں اور دسویں یا دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے، (۳) صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔ ان میں پہلی شکل سب سے افضل ہے، اور دوسری شکل کا درجہ اس سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ سب سے کم ہے، اور  تیسری شکل کا درجہ جو سب سے کم ہے اسی کو فقہاء نے کراہتِ تنزیہی سے تعبیر کردیا ہے، ورنہ جس روزہ کو آپ ﷺ نے رکھا ہو اور آئندہ نویں کا روزہ رکھنے کی صرف تمنا کی ہو اس کو مکروہ نہیں کہا جاسکتا۔

 

"وحاصل الشريعة: أن الأفضل صوم عاشوراء وصوم يوم قبله وبعده، ثم الأدون منه صوم عاشوراء مع صوم يوم قبله أو بعده، ثم الأدون صوم يوم عاشوراء فقط. والثلاثة عبادات عظمى، وأما ما في الدر المختار من كراهة صوم عاشوراء منفرداً تنزيهاً، فلا بد من التأويل فيه أي أنها عبادة مفضولة من القسمين الباقيين، ولا يحكم بكراهة؛ فإنه عليه الصلاة والسلام صام مدة عمره صوم عاشوراء منفرداً، وتمنى أن لو بقي إلى المستقبل صام يوماً معه". (العرف الشذي شرح سنن الترمذي، ج: 2، ص: 177)

وصوم عاشوراء، وهو اليوم العاشر من المحرم عند عامة العلماء والصحابة - رضي الله تعالى عنهم - كذا في الظهيرية المسنون أن يصوم عاشوراء مع التاسع كذا في فتح القدير. ويكره صوم عاشوراء مفردا كذا في محيط السرخسي.(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم و فیہ سبعۃ أبواب، النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة، ج:1، ص: 202)


فتویٰ نمبر : 10599/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور