بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مضارب سے مال مضاربت ہلاک ہوجائے


سوال

اگر مضارب مال مضاربت میں سے کوئی چیز کسی پر فروخت کرے اور پھر وہ مشتری مال لے کر غائب ہوجائے تو  کیا مضارب پر ضمان آئے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو مضاربتِ مطلقہ پر مال دے دے، تو مضارب کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ نقد اور اُدھار دونوں طریقوں پر خرید و فروخت کرسکتا ہے۔ نیز مضارب کے ہاتھ میں مالِ مضاربت امانت ہوتا ہے، لہٰذا اس کے ضائع ہونے کی صورت میں مضارب پر ضمان لازم نہیں آتا۔ البتہ اگر مضارب تعدی یا غفلت کا ارتکاب کرے تو پھر اس پر ضمان لازم ہوگا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر مضارب نے عرف کے مطابق احتیاط کے تقاضے پورے کرکے مالِ مضاربت سے کوئی چیز اُدھار فروخت کی ہو لیکن پھر وہ خریدار غائب ہو کر نقصان ہوا ہو تو مضارب ضامن نہیں ہوگا، تاہم اگر مضارب نے عرف کے مطابق احتیاط نہ کی ہو اور بے احتیاطی سے کام لیا ہوتو پھر مضارب ضامن ہوگا۔

 

المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه قبضه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه، وإذا ربح فهو شريك فيه لتملكه جزءا من المال بعمله، فإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره. (الهداية شرح البداية المبتدي،ج:3،ص:200)

يجوز للمضارب أن يبيع بالنقد والنسيئة كذا في الكافي.(الفتاوى الهندية،كتاب المضاربة،ج:4،ص:292)


فتویٰ نمبر : 4075/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور