بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
غصے کی حالت میں بیوی کو دو طلاق رجعی دینا
سوال
میں(محمد کریم) نے طیش (غصے) میں آکر اپنی بیوی کو دو مرتبہ كہا کہ تو طلاق ہے تو طلاق ہے (تہ طلاقہ يے تہ طلاقہ يے) اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میری بیوی مجھ سے جدا ہوچکی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے صریح الفاظ استعمال کرے تو اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، چاہے برضا ورغب طلاق دے یا غصہ کی حالت میں بہر حال طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سائل نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ یوں کہا ہو کہ تو طلاق ہے تو طلاق ہے(تہ طلاقہ يے تہ طلاقہ يے) تو اس سے دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ہیں اب اگر سائل عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرسکتا ہے اور رجوع کرنے سے بیوی اس سے جدا نہ ہوگی البتہ آئندہ اس کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا، اور اگر عدت گزر جائے اور اس دوران رجوع نہ کرے تو اس سے بیوی اس كے نکاح سے نكل جائے گی پھر باہمی رضامندی سے تجدید نکاح کے بغیر رشتہ ازدواج استوار نہیں کر سکتے۔
الفصل الأول: في الطلاق الصريح. وهو: كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، ج:1، ص:354)
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض. )الهداية، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2، ص:254)