بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
باپ کی زندگی میں میراث سے دست بردار ہونا
سوال
ایک بیٹی نے باپ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ آپ مجھے کچھ جائیداد دے دو میں آپ کی وفات کے بعد آپ کی میراث میں حصہ نہیں لوں گی، اب سوال یہ ہے کہ باپ کی وفات کے بعد یہ بیٹی میراث سے محروم ہوگی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ ہر شخص زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد کا خود مالک ہوتا ہے، اس لیے اولاد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ باپ کی زندگی میں حصے کا مطالبہ کریں۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے بیٹے یا بیٹی وغیرہ کو جائیداد میں سے کچھ حصہ دے اور وہ باپ کی زندگی میں اس پر قبضہ بھی کرے تو یہ ہبہ متصور ہوگا، میراث نہیں۔ نیز اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ کسی کام پر معاہدہ کرے تو دیانتاً اس پر اس کا پورا کرنا لازم ہے، خلاف ورزی کی صورت میں گناہ گار ہوگا۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر واقعی والد نے بیٹی سے معاہدہ کرکے اسے جائیداد میں سے کچھ حصہ دیا ہو، اور بیٹی نے باپ کی زندگی میں اس پر قبضہ بھی کیا ہو تو شرعاً یہ ہبہ متصور ہوگا میراث نہیں۔ لہذا اس حصے کی وجہ سے باپ کی وفات کے بعد وه میراث میں حصے سے محروم نہیں ہوگی۔ تاہم اگر واقعی بیٹی نے میراث میں حصہ نہ لینے کا وعدہ کیا ہو، تو والد کی وفات کے بعد اس کو چاہیے کہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے مصالحت کے طور پر باپ کی میراث میں سے تھوڑا حصہ لے کر اپنے باقی حصے سے دست بردار ہو جائے۔
الإرث يثبت بعد موت المورث.(البحرالرائق،كتاب الفرائض،ج:9،ص:364)
(ولها أن ترجع إن وهبت قسمها للأخرى)؛ لأنها أسقطت حقا لم يجب بعد فلا يسقط، وهذا لأن الإسقاط إنما يتحقق في القائم، فيكون الرجوع امتناعا بمنزلة العارية حيث يرجع المعير فيه متى شاء لما قلنا. ( البحر الرائق،كتاب القسمة،ج:2،ص:181)
قال النووي: أجمعوا على أن من وعد إنسانا شيئا ليس بمنهي عنه فينبغي أن يفي بوعده...فلو تركه فاته الفضل وارتكب المكروه كراهة شديدة. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الآداب، ج:9،ص:130)
الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك. (الهداية شرح البداية المبتدي،كتاب الهبة،ج:3،ص:222)