بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

يوٹیوب پر بائبل پڑھانا


سوال

میں  یو ٹیوب پر صرف تعلیمی انداز میں بائبل کے پیراگراف یا آیات پڑھ کر ان کی سادہ ایکسپلینیشن دینا چاہتا ہوں، جیسے کسی کتاب کو پڑھایا جاتا ہے۔ میں کسی عقیدے کی تبلیغ یا اسلام سے موازنہ نہیں کروں گا۔ کیا مسلمان ہونے کے ناطے میرے لیے ایسا یوٹیوب چینل بنانا جائز ہے يا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ  تمام آسمانی کتب برحق ہیں  اس پر ایمان  رکھنا لازم ہے، لیکن  قرآن مجید کے علاوہ دیگرموجودہ آسمانی کتب میں تحریف ہوئی ہے، اور اپنی اصل شکل و صورت میں موجود نہیں ، اس لیے اس کے پڑھنے  سے احادیث مبارکہ میں منع فرمایا ہے اور جب پڑھنا منع ہے تو پڑھانا تو ضرور منع ہوگا، حدیث شریف میں  آیاہے کہ  حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں نبی کریم ﷺ نے تورات کے کچھ اوراق دیکھ لیے جس کو وہ پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے سخت غصے کا اظہار فرمایا ،اور ان  کو پڑھنے سے منع فرمایا ۔ 

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سائل کے لیے یوٹیوب پر تعلیمی انداز میں بائبل(انجیل)پڑھانے کے لیے چینل  بنانا اور بائبل پڑھانا  بالکل نا جائز ہے، اس سے احتراز کرے ، کہیں یہ حرکت ایمان سے محرومی کا سبب نہ بن جائے۔ والعیاذ باللہ تعالی۔

 

وعن جابر أيضا قال: نسخ عمر كتابا من التوراة بالعربية، فجاء به إلى النبي، فجعل يقرأ ووجه رسول الله صلى الله عليه وسلم يتغير، فقال رجل من الأنصار: ويحك يا ابن الخطاب، ألا ترى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء ; فإنهم لن يهدوكم وقد ضلوا، وإنكم إما أن تكذبوا بحق، أو تصدقوا بباطل، والله لو كان موسى بين أظهركم ما حل له إلا أن يتبعني. ( مجمع الزوائد، رقم الحديث:809، ج:1، ص:143)

ولا ينبغي للرجل أن يسأل اليهودي والنصراني عن التوراة والإنجيل والزبور ولا يكتبه ولا يتعلمه ولا يستدل لإثبات المطالب بما ذكر في تلك الكتب. (الفتاوی الهندية، كتاب الكراهية، ج:5، ص:403)

النظر في كتب أهل الكتاب وما يشبهها: ذهب الحنفية والحنابلة إلى أنه لا يجوز النظر في كتب أهل الكتاب، نقل ابن عابدين قول عبد الغني النابلسي: نهينا عن النظر في شيء من التوراة والإنجيل، سواء نقلها إلينا الكفار أو من أسلم منهم.وسئل أحمد عن قراءة التوراة والإنجيل والزبور ونحو ذلك فغضب، وظاهره الإنكار. (الموسوعة الفقهية الكويتية، ج:34، ص:184)


فتویٰ نمبر : 10957/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور