بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فوت شدہ شوہر کے ذمہ مہر


سوال

اگر کسی کا بیٹا فوت ہو گیا ہواور اس فوت شدہ بیٹے نے اپنی بیوی کا مکمل مہر ادا نہ کیا ہو، تو کیا اس کی بیوہ اپنے شوہر کے والد یا بھائیوں سے مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے؟ اور شرعاً مہر کی ادائیگی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

جواب

مہر کی ادائیگی شوہر کے ذمہ لازم ہوتی ہے۔ اگر شوہر اپنی زندگی میں مہر ادا نہ کرسکا ہو، تو اس کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ (متروکہ مال) سے مہر ادا کیا جائے گا، کیونکہ مہر جب تک ادا نہ کیا ہو تو وہ بیوی کا شوہر کے ذمہ قرض ہوتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر فوت شدہ بیٹے نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا، تو بیوہ اپنے شوہر کے ترکہ سے مہر وصول کرنے کی حق دار ہوگی۔ البتہ اگر اس کے ترکہ سے مہر پورا نہ ہو سکے تو شوہر کے والد یا بھائی شرعاً مہر کی ادائیگی کے ذمہ دار نہیں ہیں، الا یہ کہ وہ اپنی خوشی سے ادا کرنا چاہیں۔

 

فلأن المسمى دين في ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته (الهداية، كتاب النكاح، ج:1، ص:207)

ولا يطالب الأب إلخ لأن المهر مال يلزم ذمة الزوج ولا يلزم الأب بالعقد. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب انكاح، باب المهر،ج:3، ص:141)


فتویٰ نمبر : 7416/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور