بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
گھر والواں کا رشتہ ختم کرنے سے طلاق کاحکم
سوال
ایک لڑکے او ر ایک لڑکی کے درمیان نکاح ہوا تھا، رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ پھر کسی ناچاقی کی وجہ سے لڑکے کے گھر والے لڑکی کے گھر آکر ان کو کہا کہ ہمارے درمیان جو رشتہ ہوا تھا وہ ختم ہوگیا، لڑکے نے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالا، صرف سکوت اختیار کیا اور اس فیصلے پر لڑکا اور لڑکی دونوں خوش تھے، تو کیا ان دونوں کے درمیان نکاح ختم ہوا یا اب بھی قائم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق جائز امور میں سب سے نا پسندیدہ عمل ہے، اس لیے معمولی باتوں پر طلاق دینے سے احتراز ضروری ہے۔ نیز طلاق کے واقع ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ طلاق دینے والا طلاق کا اہل ہو یعنی خود شوہر یا اس کا وکیل طلاق دے کسی اجنبی( اگر چہ باپ ہو) کے طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوگی۔ نیز طلاق دینے کے لیےشوہر یا اس کےوکیل کا طلاق کے الفاظ زبان سے بولنا یا تحریر کرنا ضروری ہے، صرف خاموش رہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں لڑکے کے خاندان والوں میں سے جس نے یہ الفاظ کہے کہ"ہمارے درمیان جو رشتہ ہوا تھا وہ ختم ہوگیا"اگر اس کو لڑکے نے طلاق دینے کا وکیل بنایا تھا تو نکاح ختم ہو چکا ہے لیکن اگر لڑکے نے کسی کو طلاق کا اختیار نہیں دیا تھا تو پھر نکاح اس وقت تک برقرار رہے گا، جب تک لڑکا یا اس کا وکیل زبانی یا تحریری طلاق نہ دے۔
(قوله وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،ج:3،ص:230)
(قوله وركنه لفظ مخصوص)...وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،ج:3،ص:230)