بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
ڈیڑھ تولہ سونا، تین تولہ چاندی اورایک لاکھ نقد روپے پرقربانی
سوال
اگر کسی عورت کے پاس ڈیڑھ تولہ سونا، تین تولہ چاندی اورایک لاکھ نقد روپے ہوں تو اس عورت پر قربانی کا کیا حکم ہے؟
جواب
شریعت مطہرہ میں قربانی واجب ہونے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ قربانی کرنے والامسلمان ہو، مقیم ہواور صاحب نصاب ہو یعنی اس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ان ميں سے ايک نصاب کے بقدر نقدی، یا اتنی ہی مالیت کا ایسا سامان موجود ہو، جو اس کی حاجاتِ اصلیہ اور قرض سے زائد ہو، تو اس پر قربانی واجب ہوتی ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت کے پاس ڈیڑھ تولہ سونا اورتین تولہ چاندی موجود ہو تو صاحب نصاب بننے کے لئے اس عورت کے پاس مزید انتالیس تولے چاندی یا اس کی قیمت کا ہونا ضروری ہے ۔اگر اتنی مقدار میں چاندی یا اس کی برابرمالیت ہو یا اس کی حاجات اصلیہ سے زائد ہوتو اس پرقربانی لازم ہوگی ورنہ نہیں۔ چونکہ چاندی کے موجودہ ریٹ(مئی 2026) کے اعتبار سے ایک لاکھ روپے انتالیس تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہیں، اس لئے اس عورت پر قربانی لازم نہیں ۔
(وأما شرائط الوجوب) منها اليسار، وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكوة۔۔۔۔۔والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون ديناراأو شيئ يبلغ ذلك،سوى مسكنه ومتاع مسكنه، ومركوبه وخادمه في حاجته التي لايستغني عنها.(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، ج:5، ص:292)
وشرائطها: (الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر).
(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الأضحية، ج:6، ص:312)