بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
کاغذات میں انتقال اور رجسٹری کو قبضہ شمار کرنا
سوال
کتب فقہ و فتاوی کی تصریحات کے مطابق " ہبہ " تام ہونے کے لیے "قبضہ "شرطِ لازم ہے۔ محض ایجاب و قبول یا کاغذات کی خانہ پری (رجسٹری، انتقال ) شرعاہبہ کو مکمل نہیں کرتی جب تک کہ قبض تام یا کم از کم " تخلیہ " متحقق نہ ہو جائے۔لیکن دورِ حاضر میں عمومی طور پر اور بالخصوص خطہ پنجاب کے عرف عام اور مروجہ قوانین میں رجسٹری یا انتقال کو ہی ملکیت کی حتمی سند تسلیم کیا جاتا ہے۔ عرفِ عام میں رجسٹری کے بعد واہب خود کو ملکیت سے دستبردار اور موہوب لہ کو مالک تصور کرتا ہے، چاہے ظاہری قبضہ تا حال واہب ہی کے پاس ہو۔ اور موہوب لہ بھی خود کو مالک تصور کرتا ہے۔مروجہ فقہی موقف (قبضہ کی شرط) پر سختی سے کار بند رہنے کی صورت میں درج ذیل پیچید گیاں جنم لے رہی ہیں:. نزاع وحق تلفی: واہب کی وفات کے بعد اس کے ورثاء محض "قبضہ نہ ہونے " کو بنیاد بنا کر ہبہ کا انکار کر دیتے ہیں، جب کہ موہوب لہ کے ورثاء محض رجسٹری یا انتقال کی بنا پر ملکیت کا دعوی کرتے ہیں، جس سے خاندانی دشمنیاں اور طویل مقدمہ بازی جنم لیتی ہے۔ حالانکہ اس سارے قضیہ میں واہب کی نیت بھی موہوب لہ کو مالک بنانے کی تھی۔. تعارض عرف و شرع: جب عرف میں رجسٹری کو ہی قبضہ کا قائم مقام سمجھا جاتا ہو، تو محض حسی قبضے پر اصرار کرنا " تغییر زمان اور الثابت بالعرف کا لثابت بالنص " کے اصول کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ حکومتی و قانونی سقم : قانون ریاست میں رجسٹری کے بعد موہوب لہ ہی ذمہ دار اور مالک ہے، جبکہ شرعی طور پر اسے مالک نہ ماننے سے ایک ہی شی کی دو متضاد حیثیتیں سامنے آتی ہیں۔مذکورہ تفصیل کے پیش نظر موجودہ دور کے " عرف عام " اور " نظام رجسٹری " کی قوت کو دیکھتے ہوئے، کیا محض رجسٹری اور انتقال اراضی کو "قبضہ حکمی، تخلیہ " یا اس کے قائم مقام تسلیم کیا جا سکتا ہے ؟ کیا جدید عرف کی بنا پر قبضہ حسی کی شرط میں وسعت کی کوئی گنجائش موجود ہے؟ تاکہ مسلمانوں کو نزاع اور مفاسد سے بچایا جا سکے۔
جواب
واضح رہے کہ شرعاً ہبہ تام ہونے کے لیے ضروری ہے کہ موہوب لہ ہبہ شدہ چیز پر قبضہ کرے، اور قبضہ ہر چیز کا اس کی حیثیت کے مطابق ہوتا ہے، تاہم جائیداد کا کسی کے نام انتقال اور رجسٹری کرنا قبضہ کی علامت تو ہوسکتی ہے، لیکن اس کو عین ِ قبضہ شمار کرنا مشکل ہے، کیونکہ قبضہ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز کسی کے ضمان میں آجائے، اور اگر صرف کاغذات میں رجسٹری ہو، اورحقیقی تسلیم نہ ہوتو قبضہ کا معنی حاصل نہیں ہوگا ، پهر یہ کہ لوگ اکثر اپنی جائیداد کو دوسرے کے نام کسی اور غرض سے لکھواتے ہیں، اصل میں ان کو مالک بنانا مقصود نہیں ہوتا۔
لہذا صورت مسئولہ میں تخلیہ کے بغیر صر ف انتقال اور رجسٹری قبضہ شمار نہیں ہوگا، بلکہ کاغذات میں رجسٹری کے بعد جب عملاً قبضہ دیا جائےگا، تو تب ہبہ تام ہوگا۔اور نزاع کے ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ واہب ہبہ شدہ چیز کی رجسٹری کے ساتھ موہوب لہ کو اس پر تصرف کرنے کا حق بھی دے ديا كرےاور جو عرف مکمل طور پر رائج اور معمول بہ ہو اس کو احکام کے لیے بنیاد بنایا جاسکتا ہے، لیکن مذکورہ صورتِ حال میں واہب کی وفات کے بعد اس کے ورثاء کا محض "قبضہ نہ ہونے " کو بنیاد بنا کر ہبہ کا انکار کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عرف میں یہ بات مکمل طور پر رائج نہیں، نیز رجسٹری کو قبضہ کی حیثیت دینے میں خرابی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، اور جس عرف میں خرابی ہو، تو اس پر احکام کا مدار رکھنا درست نہیں، اور حکومتی قانون شرعی قاعدے سے اس لیے متضاد نہیں، کہ ملکی قانون میں بھی ہبہ کے مکمل اور تام ہونے کے لیے رجسٹری کے ساتھ قبضہ کی منتقلی بھی شرط ہے چنانچہ محمڈن لاء کے اندر دفعہ 149 میں ہبہ تام ہونے کے لیے تین شرائط مذکور ہیں، 1۔ہبہ کا ایجاب واعلان2۔ قبولیتِ ہبہ3۔ قبضے کی منتقلی۔
الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك. (الهداية، كتاب الهبة، ج:6، ص:238)
(قوله والتمكن من القبض كالقبض) قال في التتارخانية قد ذكرنا أن الهبة لا تتم إلا بالقبض والقبض نوعان حقيقي وأنه ظاهر وحكمي وذلك بالتخلية وقد أشار في هذه المسألة إلى القبض الحكمي وهو القبض بطريق التخلية. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب البيوع، ج:7، ص:487)
اتفق الفقهاء على أن قبض العقار يكون بالتسليم الفعلي أو بالتخلية أي رفع المانع من القبض أو التمكن من إثبات اليد بارتفاع الموانع. (الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي، کتاب الرهن، ج:6، ص:4238)