بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
معلق طلاق كی ایک صورت
سوال
میرے ایک دوست ہیں ان کی ایک چھوٹی بہن ہے، اس لڑکی کا والد اور بھائی زندہ ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اس لڑکی کے بڑے بھائی کی اپنی خالہ کے شوہر کے ساتھ لڑائی ہوئی تھی۔ اس جھگڑے کے دوران بڑے بھائی نے کہا تھا کہ:"اگر میں نے اپنی بہن کا رشتہ تمہارے بیٹے کو دے دیا تو میری بیوی مجھ پر میری بہن ہو جائے گی۔"اب خالہ کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، اور اب اس مرحوم کے بیٹے کے لیے اس لڑکے کی والدہ (یعنی خالہ) اس لڑکی کا رشتہ اس کے والد سے مانگ رہی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ:اگر والد اس لڑکے کو اپنی بیٹی کا رشتہ دے دے تو اس لڑکی کے بڑے بھائی کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ نیز لڑکی کے گھر میں عموماً رشتوں کے فیصلے بڑے بھائی کی مرضی سے ہوتے ہیں، اس لیے اگر لڑکی کا والد یہ رشتہ دینا چاہے گا تو وہ اس بڑے بیٹے (یعنی اسی بھائی) سے ضرور مشورہ کرے گا جس نے وہ الفاظ کہے تھے، تو اگر اجازت دے دی تو کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق کو اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو جب تک شرط نہ پائی جائے تب تک طلاق واقع نہ ہوگی۔ نیز اگر کوئی شخص یہ کہے کہ:"اگر میں نے اپنی بہن کا رشتہ تمہارے بیٹے کو دے دیا تو میری بیوی مجھ پر میری بہن ہو جائے گی۔"تو ان الفاظ کے کہنے سے ظہار واقع نہیں ہوگا ، کیونکہ اس میں اداتِ تشبیہ نہیں ہیں۔ لیکن اگر کسی علاقے کے عرف میں بیوی کو ماں، بہن کہنا طلاق کے مترادف ہو اور لوگ ان الفاظ سے طلاق دیتے ہوں تو شرط پوری ہونے کی صورت میں ان الفاظ سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔ نیز اگر کوئی شخص کسی عقد کے کرنے پر اپنی بیوی کی طلاق معلق کرے، پھر وہ عقد کوئی اور کر لے تو اس شخص کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق جب اس شخص نے کہا کہ:"اگر میں نے اپنی بہن کا رشتہ تمہارے بیٹے کو دے دیا تو میری بیوی مجھ پر میری بہن ہو جائے گی۔"اس کے بعد اگر اس لڑکی کا باپ یہ رشتہ کرادے اور اس بیٹے سے کوئی صریح اجازت نہ لے اور نہ ہی مشاورت کرے تو شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ البتہ اگر اس بیٹے سے مشاورت کرے یا اجازت لے اور عرف میں بڑے بھائی کی اجازت اور مشاورت کو رشتہ طے ہونے میں بنیادی حیثیت حاصل ہو توایسی صورت میں شرط پوری ہوکر طلاق واقع ہونے کا امکان ہوگا اس وجہ سے اس صورت سے احتراز کریں۔
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق. (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،ج:1،ص:420)
(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطلاق،ج:5،ص:131)