بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
پچاس کلو لوبیا کی بوری میں ایک کلو وزن کم دینا
سوال
مارکیٹ میں رواج ہے کہ 50 کلو لوبیا(کرخے) کی بوری(تروڑہ) میں تقریباً 49 کلو لوبیا آتا ہے ، اور یہ ایک کلو جو کم ہوتا ہے اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بوری وغیرہ کا وزن ہوتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ اگر گاہک 50 کلو کی بوری خریدنا چاہے تو دوكاندار كا اس کو وہ عام بوری جو 49 کلو کی ہوتی ہے دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے، قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اس سے منع کیا گیا ہے، اس لیے جو چیز وزن کی شرط کے ساتھ بیچی جاتی ہو، وہ اس وزن سے کم دینا یا اندازے سے دینا بائع کے لیے جائز نہیں ہے ۔تاہم اگر وزن کی شرط کے بغیر کسی متعین پیکٹ کی بیع کی جائے تو اس میں وزن کرانا ضروری نہیں، بلکہ وہی متعین پیکٹ دینا لازم ہوتا ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر گاہک دوکاندار سے صرف لوبیا کی بوری(تروڑہ) کا مطالبہ کرے ، تو اس صورت میں وہی 49کلو والی بوری (تروڑہ) دینا جائز ہے،لیکن اگر گاہک 50 کلو لوبیا کا مطالبہ کرے، تو اس کو پورے 50 کلو لوبیا دینا لازم ہوگا، اس سے کم دینا جائز نہیں ،اگر بوری میں لوبیا 50 کلو سے کم آتا ہو تو بوری کے ساتھ ایک کلو مزید دینا لازم ہوگا، یا پھر گاہک کو بتانا ضروری ہوگا کہ بوری میں 49 کلو ہے، پھر اگر گاہک وہی انچاس( 49 )کلو لینے پر راضی ہو،تو اس صورت میں وہی دینا جائز ہوگا۔
(ولا تنقصوا المكيال والميزان) کانوا إذا جاءهم البائع بالطعام أخذوا بكيل زائد، واستوفوا بغاية ما يقدرون وظلموا، وإن جاءهم مشتر للطعام باعوه بكيل ناقص.( الجامع لأحكام القرآن للقرطبي، آیت:84، ج:9، ص:85)
(وشرط لصحته معرفة قدر) مبيع وثمن... (قوله: لا يشترط ذلك في مشار إليه) قال: في البحر: وقوله: غير مشار إليه قيد فيهما؛ لأن المشار إليه مبيعا كان أو ثمنا لا يحتاج إلى معرفة قدره، ووصفه فلو قال: بعتك هذه الصبرة من الحنطة أو هذه الكورجة من الأرز والشاشات: وهي مجهولة العدد بهذه الدراهم التي في يدك: وهي مرئية له فقبل جاز.( رد المحتارعلی الدرالمختار، کتاب البیوع، ج:7، ص:51)
قال القدوري: ما يتعين في العقد فهو مبيع. (الفتاوی الهنديه، کتاب البیوع، ج:3، ص:15)