بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ماضی کے کام پر جھوٹی قسم کھانا


سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تحریری طلاق دے دے، تو کیا وہ بعد میں یہ قسم کھا سکتا ہے کہ اُس نے اپنی بیوی کو زبانی طلاق دی ہے تحریری نہیں؟ اگر کوئی اس طرح قسم کھائے تو گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ماضی یا حال میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قصداً جھوٹی قسم کھانا یمینِ غموس کہلاتا ہے ، یمینِ غموس پر    احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں آئی ہیں اور اس کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے ، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے اور اگر کسی نے جھوٹی قسم کھائی تو اس پر توبہ واستغفار لازم ہوگا ،تاہم اس میں  کفارہ لازم نہیں ہوتا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جس  شخص نے بیوی کو تحریری طلاق دی ہے ،  تو قصداً اس بات کی جھوٹی  قسم کھانا اس کے لیے  جائز نہیں  کہ اس نے زبانی طلاق دی ہے  تحریری نہیں، اگر اس طرح قسم کھائے گا تو  گناہ گار ہوگا، توبہ واستغفار لازم ہوگا۔

 

عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكبائر الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس. (صحیح البخاري،كتاب الأيمان والنذور، رقم الحديث:6675، ج:8، ص:138)

والتي لا تكفر اليمين الغموس، وهي المعقودة على أمر في الماضي أو الحال كاذبة يتعمد صاحبها ذلك، وهذه ليست بيمين حقيقة؛ لأن اليمين عقد مشروع، وهذه كبيرة محضة، والكبيرة ضد المشروع ولكن سماه يمينا مجازا؛ لأن ارتكاب هذه الكبيرة لاستعمال صورة اليمين.( المبسوط للسرخسي، كتاب الأيمان، ج:8، ص:127)

(اليمين بالله ثلاثة أنواع) غموس، وهو الحلف على إثبات شيء، أو نفيه في الماضي، أو الحال يتعمد الكذب فيه فهذه اليمين يأثم فيها صاحبها، وعليه فيها الاستغفار، والتوبة دون الكفارة. (الفتاوى الهندية، كتاب الأيمان، ج:2، ص:57)


فتویٰ نمبر : 10934/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور