بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زندگی میں اپنی جائیداد سوتیلے بیٹوں کو دینا


سوال

ایک خاتون نے اپنی زندگی میں اپنی ملکیتی جائیدادگواہوں کی موجودگی میں اسٹامپ پیپر کے ذریعے اپنی مرضی سے اپنے سوتیلے بیٹوں کو ہبہ کر دی تھی، اور بیٹوں نے اس پر قبضہ بھی کر لیا تھا۔ اب مذکورہ خاتون کی وفات کے بعد ان کے بھائی ان سوتیلے بیٹوں سےجائیداد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہےکہ کیا شرعی و قانونی طور پر بھائی کا یہ مطالبہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کا اپنی زندگی میں اپنے مال و جائیداد میں سے کسی کو بلاعوض کچھ دینا   ہبہ کہلاتاہے، اور  ہبہ  کے مکمل ہونے کے لیےضروری ہے کہ واہب (ہبہ کرنے والا) موہوبہ چیز (جس چیز کا ہبہ کیا جارہاہے) کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کررہا ہے) کے مکمل  قبضہ اورتصرف میں بھی دے دے، اور موہوبہ چیز سے اپنا تصرف مکمل طور پر ختم کردے،ورنہ قبضہ دیے بغیر شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر خاتون نے اپنی زندگی میں ا پنی ملکیتی جائیداد اپنے سوتیلے بیٹوں کو اپنی مرضی سے  ہبہ کر دی تھی اور انہوں نے اس پر قبضہ بھی کر لیا تھا، تو وہ جائیداد ان کی ملکیت شمار ہوگی،  چنانچہ بعد میں اس خاتون کے بھائیوں کا اس میں مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

 

وتتم الهبة بالقبض الكامل ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به .(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الهبة، ج:5، ص:690)


فتویٰ نمبر : 6659/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور