بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عورت کی اجازت کے بغیراس کا نکاح اور بعد میں اس کی رضامندی


سوال

ایک نکاح میں لڑکی کی طرف سے ایجاب وقبول کے لیے اس کا بھائی حاضر ہوا اور ایجاب و قبول کیا لیکن اس نے لڑکی سے نہیں پوچھا تھا البتہ لڑکی کو خبر تھی کہ میرا بھائی میری طرف سے جا رہا ہے، نکاح کے بعد لڑکی نے کہا کہ میں نکاح سے پہلے بھی اور اب بھی اس نکاح پر راضی ہوں، کیا یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نکاح کے معاملے میں عاقلہ بالغہ لڑکی کے ولی کو اس بات کا پابند کرتی ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہ کرے، بلکہ نکاح سے قبل اس سے اجازت حاصل کرے اور اس کی رضامندی لے۔ اگر لڑکی نکاح پر راضی نہ ہو تو ولی کے لیے زبردستی نکاح کرانا جائز نہیں، اور اگراس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کروا دیا جائے توایسے نکاح کی صحت اس کی اجازت پر موقوف رہتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکی کے بھائی نے ایجاب و قبول کے وقت لڑکی سے اجازت نہیں لی تھی، لیکن لڑکی  کو نکاح کا علم تھا اور اس نے نکاح ہو جانے کے بعد صراحتاً اپنی رضامندی کا اظہار کیا، تو اس کی یہ رضامندی معتبر ہے اور نکاح منعقد ہو گیا ہے۔

 

لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية، کتاب النکاح،الباب الرابع في الأولياء في النكاح، ج:1، ص:287)

كل عقد صدر من الفضولي وله قابل يقبل سواء كان ذلك القابل فضوليا آخر أو وكيلا أو أصيلا انعقد موقوفا هكذا في النهاية.(الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب السادس في الوكالة بالنكاح وغيرها، ج:1، ص: 299)


فتویٰ نمبر : 7406/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور