بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
انبیا علیہم السلام کو شیطان کے وسوسہ سے نسیان کا ہونا
سوال
سورت کہف میں ذکر ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھی نے ان سے کہا کہ شیطان نے مجھے بھلا دیا (سورت کہف آیت 63) اور کچھ مفسرین نے کہا ہے کہ ان کے خادم کا نام حضرت یوشع علیہ السلام تھا تو کیا نبی کو نسیان من جانب شیطان ہوسکتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ سورت کہف میں حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھی کا جو ذکر ہے، اس کی تعیین میں بہت سارے اقوال منقول ہیں، لیکن اگر اس سے مراد حضرت یوشع علیہ السلام ہوں، پھر بھی مذکورہ اشکال وارد نہیں ہوتا، کیونکہ انبياء كرام علیہم السلام کو شیطان کے وسوسہ سے سہو،نسیان اورغلطی ہو سکتی ہے، لیکن ان کو فوراً اللہ تعالی کی طرف سے متنبہ کردیا جاتا ہے، اور صحیح بات کی طرف لوٹادیا جاتا ہے، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یوشع علیہ السلام نے شیطان کی طرف جو نسیان کی نسبت كی ہے یہ حقیقی نسبت نہ ہو ، بلکہ عام طور پر صلحا اچھے کام کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرتے ہیں اور برے کام کی نسبت شیطان کی طرف کرتے ہیں،جیسےکہ قرآن ِ مجید میں حضرت موسی علیہ السلام کا قول منقول ہے:هذا من عمل الشیطان.
قوله تعالى: (ليجعل ما يلقي الشيطان فتنة) أي ضلالة...قال الثعلبي: وفي الآية دليل على أن الأنبياء يجوز عليهم السهو والنسيان والغلط بوسواس الشيطان أو عند شغل القلب حتى يغلط، ثم ينبه ويرجع إلى الصحيح، وهو معنى قوله:" فينسخ الله ما يلقي الشيطان ثم يحكم الله آياته". ولكن إنما يكون الغلط على حسب ما يغلط أحدنا. (الجامع لأحكام القرآن، للقرطبی، سورۃ الحج، آیت:53، ج:6، ص:86)
المسألة الثالثة: قال الكعبي: الآية تدل على أن المعاصي لا تنسب إلى الله، فإنه تعالى نسبها في هذه الآية إلى الشيطان وهو كقوله تعالى عن موسى: هذا من عمل الشيطان وكقوله يوسف. من بعد أن نزغ الشيطان بيني وبين إخوتي وكقول صاحب موسى: وما أنسانيه إلا الشيطان .( مفاتيح الغيب المعروف بالتفسير الكبير، ج:9، ص:398)