بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تبلیغی جماعت کےمروجہ اعمال


سوال

 تبلیغی جماعت میں جو"اجتماعیت" (اجتماعی طور پر نکلنا، اکٹھا ہو کر دین کی دعوت دینا، اور اجتماعات منعقد کرنا) رائج ہے، اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ طریقہ قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ: کیا اس طرح کی اجتماعیت قرآن و حدیث یا سلفِ صالحین کے عمل سے ثابت ہے؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس پر ہونے والے اعتراضات کا مدلل جواب کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً کثیراً

جواب

تبلیغِ دین کاایک اہم فریضہ ہے جسےعلماءنےفرضِ کفایہ قرار دیا ہے، یعنی اگر امت کے کچھ افراد یہ کام انجام دیتے رہیں تو باقی افراد بری الذمہ ہو جاتے ہیں، لیکن اگر پوری امت اسے ترک کر دے تو سب گناہ گار ہوں گے۔ نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا، لوگوں تک دین پہنچانا اور ان کے پاس جا کر انہیں ہدایت کی طرف بلانا، یہ سب امور قرآن و حدیث اور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی سیرت سے ثابت ہیں۔ نبی کریم ﷺ خود مختلف قبائل کے پاس جا کر دعوت دیتے تھے اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس مقصد کے لیے بھیجتے تھے، اورصحابہ رضی اللہ عنھم کبھی انفرادی اورکبھی اجتماعی طور پر یہ خدمت انجام دیتے تھے، اس لیے "اجتماعیت "کی اصل سلفِ صالحین کے عمل میں موجود ہے۔البتہ موجودہ تبلیغی جماعت میں جو خاص ترتیب رائج ہے، جیسے تین دن، چالیس دن، چار ماہ یا مخصوص گشت اور اجتماعات، یہ شریعت کی طرف سے لازم یا مقرر کردہ نہیں بلکہ بزرگوں کے تجربات اور حکمت پر مبنی تدبیریں ہیں، جو اصلاحِ نفس اور دعوت کے کام کو منظم اور آسان بنانے کے لیے اختیار کی گئی ہیں۔ اس خاص طریقےپردعوت دینانہ فرض ہے نہ واجب، بلکہ ایک مفید اورمستحسن طریقہ ہے، جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، اور اس خاص طریقےسے وابستہ نہ ہونے کی صورت میں انسان گناہ گار نہیں ہوتا۔

 

قال الله تعالى ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير ويأمرون بالمعروف وينھون عن المنكر قال أبو بكر قد حوت هذه الآية معنيين أحدهما وجوب الأمر بالمعروف والنھی عن المنكر والآخر أنه فرض على الكفاية ليس بفرض على كل أحد في نفسه إذا قام به غيره لقوله تعالى ولتكن منكم أمة وحقيقته تقتضي البعض دون البعض فدل على أنه فرض على الكفاية إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين.(أحكام القرآن للجصاص، ج:2، ص: 315)

فخرج إلى الطائف هو وزيد بن حارثة يدعو إلى الله تعالى، وأقام به أياما فلم يجيبوه، وآذوه وأخرجوه، وقاموا له سماطين، فرجموه بالحجارة حتى أدموا كعبيه، فانصرف عنھم رسول الله صلى الله عليه وسلم راجعا إلى مكة.(زاد المعاد، ج:1، ص: 95)


فتویٰ نمبر : 6649/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور