بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پروویڈنٹ فنڈ پراضافی منافع لینا


سوال

ہماری کمپنی  پروویڈنٹ فنڈ پالیسی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں میں سے  10٪ کٹوتی لازمی کرتی ہے، اور کمپنی والو ں کا کہنا ہے کہ وہ اس فنڈ کو اسلامی سرمایہ کاری  میں لگاتے ہے، تو اب سوال یہ ہے کہ کمپنی سے اپنا حصہ بمع منافع لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سرکاری اور بعض  نجی  اداروں میں  ملازمین  کی تنخواہوں سے ایک خاص فیصد کی  کٹوتی  کی جاتی ہے جو ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بمع منافع یکمشت دی جاتی ہے، یہ رقم ملازمین  ہی کی تنخواہوں  کا حصہ ہوتا ہے، جس کے ساتھ کمپنی بھی اپنا کچھ حصہ ملا کر سرمایہ کاری کرتی ہے، پھر یہ منافع مع  اصل رقم کےملازمین کو دیتی ہے ، اگر ملازمین کی  تنخواہوں میں سے یہ  کٹوتی جبرا کی جاتی ہو تو ملازمین کے لیے اپنی اصل رقم بمع منافع لینا جائز ہے، اوراگر کٹوتی  اختیاری کی جاتی ہو، لیکن کمپنی  اس فنڈ کو علما کی نگرانی میں  واقعتاًکسی حلال سرمایہ کاری میں لگاتی ہو تو بھی منافع لینا جائز ہے ۔

 

ثم ‌الأجرة ‌تستحق ‌بأحد ‌معان ‌ثلاثة ‌إما ‌بشرط ‌التعجيل، ‌أو ‌بالتعجيل، ‌أو ‌باستيفاء ‌المعقود ‌عليه، فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، ج: (4/ 413)


فتویٰ نمبر : 4049/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور