بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
میقات میں مقیم شخص کا حجِ قران
سوال
ایک شخص پاکستان سے مکہ مکرمہ گیا اور عمرہ کی ادائیگی کی ، حلال ہونے کے بعد وہاں مقیم رہا جب کہ اس کا ارادہ حج قران کی ادائیگی کا ہے لیکن ایام کے زیادہ ہونے کی وجہ سے حج قران کے احرام میں رہنا اس کے لیے مشکل ہے ایسی صورتحال میں اگر یہ شخص حج کے ایام قریب آنے پر دوبارہ حدود حرم سے باہر نکل کر یا مدینہ منورہ جا کر وہاں سے احرام باندھ لے اور اس احرام میں حج قران کی نیت کر لے تو ایسی صورت میں اس آفاقی شخص کے لیے حج قران کی نیت کرنا صحیح ہو گایا نہیں ؟ نیز اگر مکہ اور مدینہ میں اقامت کی مدت سے کم عرصہ گزارے جس کی وجہ سے مسافر رہے تو ایسی صورت میں پہلے عمرے سے حلال ہونے کے بعد میقات سے دوبارہ حج قران کی نیت کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ آفاقی شخص جب اشہرحج میں عمرہ کی نیت کرے اور عمرے کے افعال ادا کرنے کے بعداحرام سے حلال ہو جائے، اور پھر اسی سال حج کر لے تو اشہر حج میں عمرہ ادا کرنے اور اس سے حلال ہونےكے بعد اس کا حج "حجِ تمتع" ہوگا، نیز یہ کہ امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک آفاقی شخص جب اشہر حج میں عمرہ کرکے مکہ میں ٹھہرے تو وہ مکی کے حکم میں ہوتا ہے، اوراس کا اپنے وطن اصلی کے علاوہ کسی دوسری جگہ کی طرف سفر کرنے سے اس کا مکہ میں ٹھہرنا متاثر نہیں ہوتا، اس لیے اس کا تمتع باطل نہیں ہوتا۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص جب اشہر حج میں عمرہ کی ادائیگی سے فارغ ہو کر حلال ہوا تو مدینہ منورہ جانے کی وجہ سے اس کا تمتع باطل نہیں ہوا، اس لیے وہ میقات سے حجِ قران کی نیت نہیں کرسکتا، چنانچہ وہ واپسی میں صرف حج یا صرف عمره کا احرام باندهے گا، قران كی نيت نہیں کرے گا، تاہم اگر قران کی نیت کی تو حجِ قران ہوجائے گا ۔
المتمتع الآفاقي إذا خرج إلی المدينة المنورة لايجوز له القران وقت الرجوع، وكذا لو خرج إلی الآفاق لحاجة فقرن لا يكون قارنا عندأبي حنيفة، وعليه رفض أحدهما، ولا يبطل تمتعه؛ لأن الأصل عنده أن الخروج في أشهر الحج إلی غير أهله كالإقامة بمكة فكأنه لم يخرج من مكة، وأما عندهما فكالرجوع إلی أهله، فإذا خرج بطل تمتعه، ثم إذا قرن من الميقات كان قارنا. (غنیة الناسك، ج:1، ص:343)
ولو أحرم بعمرة أخرى بعد ما دخل أشهر الحج لم يكن متمتعا في قولهم جميعا؛ لأنه صار في حكم أهل مكة بدليل أنه صار ميقاتهم ميقاته، فلا يصح له التمتع إلا أن يعود إلى أهله ثم يعود إلى مكة محرما بالعمرة في قول أبي حنيفة، وفي قولهما: إلا أن يعود إلى أهله أو إلى موضع يكون لأهله التمتع والقران على ما نذكر. (بدائع الصنائع، کتاب الحج، ج:3، 172)
(والمكي ومن في حكمه يفرد فقط) ولو قرن أو تمتع جاز وأساء، وعليه دم جبر. (رد المحتار علی الدرالمختار، ج:3، ص:567)
ولو أحرم الآفاقي بالعمرة قبل أشهر الحج فدخل مكة محرما بالعمرة، وهو يريد التمتع فينبغي أن يقيم محرما حتى تدخل أشهر الحج فيأتي بأفعال العمرة، ثم يحرم بالحج ويحج من عامه ذلك فيكون متمتعا. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 169)