بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گمراہ عقائد رکھنے والے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کے درج ذیل نظریات ہوں تو اس کا کیا حکم ہوگا:عذاب قبر کا انکار کرے،رجم سے انکار کرتے ہوئے کہےکہ قرآن میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں، حافظ قرآن کا دس لوگوں کو جنت میں داخل کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہے کہ قرآن میں اس کا تذکرہ نہیں، تقدیر پر اشکالات کرے، روزہ کے افطار کے وقت کو عشاء  قرار دے، زکوۃ کا انکار کرتے ہوئے کہے کہ جب مال جمع کرنا حرام ہے تو زکوۃ کہا ں سے آگیا، مسلمانوں کا جہنم جانے کے بعد نکلنے جب کہ یہود و نصارٰ ی کا دائمی جہنم جانا اللہ تعالی کے رب العلمین ہونے کے منافی قرار دےدينا، حضرت عیسی ؑکے نزول کا انکار کرے اور کہے کہ وہ وفات پا گئے ہیں، حضرت امام مہدی کے آنے کا انکار کرے، تورات و انجیل  کا حضرت موسیؑ اور عیسیؑ کے اوپر نازل ہونے کا انکار کرے، تدوین قرآ ن کا انکار کرتے ہوئے کہے کہ یہ بات غلط ہے کہ نبی دنیا سے چلے گئے اور قرآن کو کتابی شکل میں چھوڑ کر نہیں گئے، موسی ؑ کے عصا سے سانپ کا بن جانا اور پھر اس کا سارے جادوگروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل جانے کا انکار کرے، براہ کرم اس شخص کے بارے میں قرآ ن وحدیث کی روشنی میں واضح اور مدلل فتوٰ ی صادر فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ وہ احکام جو ضروریات دین میں  سے ہیں  اور اسلامی معاشرہ میں اس کا حکم مشہور ومعروف ہے  ۔جیسے : نماز،روزہ،حج،زکوۃ وغیرہ ان کا انکار کرنا باجماع امت کفر ہے اور اس میں کسی قسم کی تاویل یا ناواقفیت  عذر نہیں،البتہ ایسے قطعی احکام  جو شہرت میں اس درجہ کو نہ پہنچے ہوں تو احناف کے نزدیک اگر کوئی عام آدمی بوجہ ناواقفیت ان کا انکار کر بیٹھے تو اس کو فورا اسلام سے خارج نہیں سمجھا جائے گا   بلکہ پہلے اس کے شکوک وشبھات کا ازالہ کیا جائے گا ،پھر بھی اگر وہ انکار کرے  ،تب کفر کا حکم لگایا جائے گا۔

صورتِ مسئولہ میں کچھ عقائد ایسے  ہیں جن کے انکار سےکفر لازم آتا ہے ۔جیسے: زکوۃ کا انکار کرنا ، قرب قیامت میں عیسی ؑ کے نزول سے انکار کرنا، تورات کا حضرت موسیؑ اور  انجیل کا حضرت عیسیؑ کے اوپر نازل ہونے  سےانکار کرنا، موسی ؑ کے عصا سے سانپ بن کراس کا سارے جادوگروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل جانے سے انکار کرنا، عذاب قبر کا بلا تاویل انکار کرنا وغیرہ چونکہ ان کا انکار قرآن و حدیث کے صريح نصوص اور اہل سنت و الجماعۃ  كے اجماعی عقائد سے انکار  ہے اس لئے یہ عقائد رکھنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا۔ سب مسلمانوں کے لئے ایسے گمراہ کن عقائد رکھنے والے شخص سے قطع تعلق ضروری ہے۔

قال الله تعالى: وَقَفَّيۡنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡإِنجِيلَ.[المائدة: 46]

وقال تعالىى: إِنَّآ أَنزَلۡنَا ٱلتَّوۡرَىٰةَ فِيهَا هُدى وَنُورۚ. [المائدة: 44]  

وقال تعالىى: وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ. [طه: 69] 

عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، قَالَ: "احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عليهما السلام، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: يَا آدَمُ: أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنْ الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ. فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ ‌وَخَطَّ ‌لَكَ ‌التَّوْرَاةَ ‌بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى" ثلاثًا.(سنن ابن ماجه، ابواب السنة، ج:1، ص:58)

فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رضي الله عنها عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَقَالَ: (نَعَمْ، ‌عَذَابُ ‌الْقَبْرِ ‌حق).(صحیح البخاری، كتاب الجنائز،باب ماجاء في عذاب القبر،ج:1، ص:462)

وَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَحَادِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أنه أخبر بنزول عيسى عليه السلام قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‌إِمَامًا ‌عَادِلًا وحكما مقسطا.( تفسير ابن كثير، ج:7، ص:217)

(وإن) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها) إذ ‌لا ‌خلاف ‌في ‌كفر ‌المخالف في ضروريات الإسلام من حدوث العالم وحشر الأجساد ونفي العلم بالجزئيات وإن كان من أهل القبلة.(رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الامامة، ج:1 ص:561)

وفي الظهيرية: و من أنكر المتواتر فقد كفر.(الفتاوى التاتارخانية، كتاب أحكام المرتدين، فصل فيما يعود الى الانبياء، ج:7، ص:305)

يكفر بإنكار رؤية الله تعالى عز وجل بعد دخول الجنة وبإنكار عذاب القبر وبإنكار حشر بني آدم لا غيرهم ولا بقوله أن المثاب والمعاقب الروح فقط كذا في البحر الرائق."(الفتاوى الهندية، كتاب السير، ج:2، ص:274)

 


فتویٰ نمبر : 6634/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور