بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
عاریت پر لی ہوئی زمین پر مکان بنانا
سوال
میری خالہ نے میرے پلاٹ پر مجھ سے اجازت لے کر ایک کمرہ بنایا اس پر سات لاکھ خرچہ کیا اور اب تک اس کے استعمال میں ہے، میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر میرے پاس پیسے آئے تو میں ادا کروں گا لیکن میرے پاس اب پیسے نہیں اور وہ مانگ رہی ہے، تو کیا اس کا پیسوں کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین کسی کو عاریت پر دے دے تاکہ وہ اس پر تعمیر کرے، تو مالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنی زمین واپس لے، اور اگر چاہے تو مستعیر (عاریت پر لینے والے) کو عمارت گرانے اور زمین فارغ کرنے کا کہے، البتہ مستعیر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مالکِ زمین کو تعمیر کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کرے۔
صورت مسئولہ کے مطابق مالکِ زمین کو پیسے دینے پر مجبور کرنا جائز نہیں، بلکہ مستعیر (عاریت پر لینے والے) کو چاہئے کہ اس کے مالدار ہونے تک انتظار کرے یا اپنا کمرہ گرا کر اس کا ملبہ اپنے استعمال میں لائے۔
إذا استعار من آخر أرضا ليبني فيها أو يغرس فيها ثم بدا للمالك أن يخرجه فله ذلك...وإذا قلع ونقض لا يضمن المعير شيئا من قيمة الغرس والبناء، كذا في البدائع...وإن طلب المستعير أن يضمن المعير قيمة البناء والغرس مقلوعا فإنه لا يجبر على ذلك ويكلفه القلع.(الفتاوى الهندية،كتاب العارية،ج:4،ص:370)