بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
سجدہ سہو واجب نہ ہونے کی صورت میں سجدہ سہو ادا کرنے سے نماز کا حکم
سوال
ایک شخص سے نماز میں ایسی غلطی ہوئی جس سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا تھا، مگر لاعلمی کی وجہ سے اس نے سجدۂ سہو کیا۔ کیا یہ نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟
جواب
اگر نماز میں کوئی ایسی کمی یا زیادتی ہو جائے جس کی بنا پر سجدۂ سہو واجب نہ ہوتا ہو، لیکن لاعلمی کے باعث اسے سجدۂ سہو کے وجوب کا سبب سمجھ لیا جائے اور سجدۂ سہو ادا کر لیا جائے، تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جس نمازمیں سجدۂ سہو واجب ہوئے بغیر سجدۂ سہو کیا ہے، وہ نمازصحیح ہے، اس کی قضا لازم نہیں۔
ولو ظن الإمام السهو فسجد له فتابعه فبان أن لا سهو فالأشبه الفساد لاقتدائه في موضع الانفراد.قال ابن عابدين: قوله ( فالأشبه الفساد) وفي الفيض: وقيل لا تفسد وبه يفتي. وفي البحر عن الظهيرية قال الفقيه أبو الليث: في زماننا لا تفسد لأن الجهل في القراء غالب. (الدرالمختار ، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:1، ص:599)