بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بھنگ کی پیداوار میں عشر کا وجوب
سوال
بھنگ میں عشر لازم ہے یا نہیں؟نیزمستحقین کے لیے اس کا لینا کیسا ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ آج کل معاشرے میں بھنگ کا استعمال بالعموم مضر صحت منشیات کے طور پر ہوتا ہے ،چنانچہ ان حالات کے پیشِ نظر اس کی کاشت کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے اور جس چیز کی کاشت حرام ہو اس میں عشر لازم نہیں ہوتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق جب بھنگ کی کاشت منشیات جیسے: چرس وغیرہ کے لیے کی جاتی ہو ، تو اس میں عشر لازم نہیں ، بلکہ اس کو ضائع كرنا ہوگا ، اور اگر اس کو فروخت کرکے مال حاصل کیا ہو تو اس کو بلا نیت ثواب فقرا پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔
عن نافع،عن ابن عمر،ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال: "كل مسكرخمروكل مسكر حرام". (صحيح مسلم،كتاب الأشربة،باب بيانه أنه كل مسكر خمر،وأنه كل خمرحرام، رقم الحديث:2003، ج3، ص1587)
قوله: (كما لو كان الكل خبيثا) في القنية ولو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه. (ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الزكاة،باب زكاة الغنم،ج3ص218)