بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مجبوری کی صورت میں مناسکِ حج میں ترتیب کی رعایت


سوال

اس سال سعودی حکومت نے یہ پالیسی بنائی ہے ، کہ حجاج کے لیے قربانی صرف اور صرف  سرکاری ادارہ ہی کرے گی ، دیگر لوگوں کو حجاج کے لیے قربانی کرنے کی اجازت نہیں، اور ہمارے نزدیک حج کے اندر رمی،ذبح اور حلق کے درمیان ترتیب واجب ہے ، جبکہ ان کے نزدیک یہ ترتیب واجب نہیں،اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں حنفی حاجی کیا کرے ، کیونکہ نہ تو وہ پرائیوٹ قربانی کی بندوبست کرسکتا ہے اور نہ یہ بات یقینی طور پر معلوم  ہے کہ بتائے ہوئے خاص وقت پر  حکومت قربانی کرے گی،اب ایسی حالت میں كيا حلق کرکے احرام سے باہر نکلنا جائز ہے،یا تین دن تک آدمی احرام کی حالت میں رہے گا؟

جواب

واضح رہے کہ 10ذی الحجہ کے مناسک حج میں سے ذبح،رمی جمرہ عقبہ اور حلق  میں ترتیب کی رعایت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں واجب ہے ،اس کے ترک کرنے پر دم واجب ہوتا ہے ، جب کہ حضراتِ صاحبین اور جمہور ائمہ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک یہ ترتیب سنت ہے اس لیے اس  کے ترک کرنے سے دم واجب نہیں ہوتا ۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جب حجاج  حکومت کی طرف سے کسی سرکاری ادارے کے ذریعے قربانی کروانے پر  مجبورہوں، جس کی وجہ سے رمی جمرہ عقبہ، ذبح اور حلق میں ترتیب کی رعایت نہ رکھ سکیں، تو مجبوراً ترتیب کی رعایت نہ رکھنے کی صورت میں صاحبین کے مذہب کے مطابق دم لازم نہ ہوگا۔

 

فإن حلق قبل الذبح من غير إحصار فعليه لحلقه قبل الذبح دم في قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف، ومحمد، وجماعة من أهل العلم: أنه لا شيء عليه. (بدائع الصنائع، كتاب الحج، ج:3، ص:148)

(وواجبه)...( والترتيب الآتي) بيانه: (بين الرمي والحلق والذبح يوم النحر) وإنما يجب ترتيب الثلاثة الرمي ثم الذبح ثم الحلق لكن المفرد لا ذبح عليه فبقي عليه الترتيب بين الرمي والحلق.  (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الحج، ج:3، ص:472)

الأمر إذا ضاق اتسع. والمفهوم من هذه القاعدة، أنه إذا شوهد ضيق و مشقة في فعل أو أمر يجب إيجاد رخصة و توسعة لذلك الضيق.(دررالحكام شرح مجلة الاحكام، المادة:18، ج:1، ص:36)


فتویٰ نمبر : 10904/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور