بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ہوٹل والوں کی طرف سے ملنے والی اشیاء کا حکم


سوال

ہم کھانا کھانے کے لیے ایک ہوٹل گئے۔ وہاں ہمیں انتظامیہ کی جانب سے ٹشو اور خلال (دانت کھودنے والی تیلی) فراہم کیے گئے۔ ہم استعمال سے بچ جانے والے ٹشو اور خلال اپنے ساتھ گھر لے آئے؛ کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہوٹلوں میں کھانے کے ساتھ جو اشیاء فراہم کی جاتی ہیں، وہ  بطورِ اباحت دی جاتی ہیں، یعنی اسے صرف استعمال کی اجازت ہوتی ہے لے جانے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا ان اشیاء کو اپنے ساتھ گھر لے آنا شرعاً جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص ہوٹل میں ٹیشو اور خلال کو وہاں استعمال کرنے کے بجائے اپنے ساتھ گھر لے آئے تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ہوگا۔ ہاں، اگر ہوٹل انتظامیہ کی طرف سے یہ چیزیں بطورتملیک دی جاتی ہوں اور اس کی صراحت کر دی گئی ہو، یا بل کی ادائیگی میں ان چیزوں کی قیمت بھی شامل ہو، تو ایسی صورت میں انہیں ساتھ لے جانا جائز ہوگا۔

 

‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌أن ‌يتصرف في ملك الغير بلا إذنه.( مجلة الأحكام العدلية، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ:96، ص:27)


فتویٰ نمبر : 6635/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور