بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

داڑھی کی وجہ سے بکرا کہنا


سوال

زید کی بیوی نے اس کی داڑھی کی وجہ سے اسے میرا بکرا کہا کیونکہ داڑھی پورے منہ پر نہیں آتی تھی زید کی بیوی کی نیت داڑھی کی توہین نہ تھی نہ سنت کا مذاق اڑانا مقصد تھا۔ کیا زید کی بیوی کافر ہوگئی؟

جواب

داڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، اور مردوں کے لیے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے، اس کی گستاخی کرنا اور مذاق اڑانا دراصل سنت اور شعائرِ اسلام کامذاق اڑانا ہے جو کفر تک پہنچادینے والا عمل ہے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت نے اگرواقعی اپنے شوہرکو داڑھی پورے منہ پرنہ آنے کی وجہ سے "میرا بکرا" کہا، اور اس کی نیت داڑھی کی توہین نہ تھی اور نہ سنت کا مذاق اڑانا مقصودتھا تو اس سے وہ کافرہ تو نہ ہوئی البتہ یہ الفاظ انتہائی بُرے ہیں اس لیے اس پر توبہ و استغفار لازم ہے، اور اگر اس  کامقصد سنت کا مذاق اڑانا تھا، تو تجدید ایمان اورتجدید نکاح لازم ہے۔

 

وقد كفر الحنفية بألفاظ كثيرة وأفعال تصدر من المتهتكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه إنما فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه ـ. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، باب أحكام المرتدين، ج:5، ص:129)


فتویٰ نمبر : 6655/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور