بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قبر کو منتقل کرنا


سوال

نجی زمین میں مالک جائیداد نے عرصہ 23 سال پہلے اپنی بیٹی کے سسر کو دفن کیا۔ مالک جائیداد کی فوتگی کے بعد اس کے بیٹے نے وراثتی ملکیت کے طور پر اپنی اسی بہن کو مذکورہ قبر اور اس سے ملحقہ زمین بطور وراثتی حق دیا۔ جس پر بعد ازاں اس مالکہ کے شوہر نے گھر بنایا اور قبر مذکور  اب اس گھر کے اندر ہے۔ مذکورہ گھر اب وہ کرایہ پر دینا چاہتے ہیں، یا بیچنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے شرعی طور کیا والد کے جسد خاکی کو مرکزی قبرستان میں منتقل کر سکتے ہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ میت کو ایک دفعہ قبر میں دفنانے کے بعد اس کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں۔ البتہ اگر کسی کی مغصوبہ زمین میں میت کو دفن کیا گیا ہو تو پھر مالک زمین کے مطالبہ پر منتقل کرایا جا سکتا ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ قبر مالکِ زمین کی اجازت پر بنی تھی اس لئے اب اس کے قبر کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں۔

 

‌ولا ‌ينبغي ‌إخراج ‌الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان.

 إذا دفن الميت في أرض غيره بغير إذن مالكها فالمالك بالخيار إن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوى الأرض وزرع فيها۔(الفتاوى الهندية، فصل فى الشهيد،ج:1، ص:167)


فتویٰ نمبر : 6625/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور