بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
سکول ٹیچر کا وقت سے پہلے جانا
سوال
میں ایک سرکاری ٹیچر ہوں ایک سرکاری مدرسے میں تقرری ہوئی ہے ہماری چھٹی ڈھائی بجے ہے لیکن ہماری کلاسز ظہر کی نماز سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں۔ پھر ظہر کی نماز کے بعد ایک گھنٹہ رہتا ہے، اس وقت کوئی کلاس نہیں ہوتی ہے، تو کیا ہم اس وقت مدرسے سے جاسکتے ہیں یا چھٹی تک مدرسہ میں رہنا ضروری ہے؟ اگر اس وقت استاد چلا جائے تو کیا اس ایک گھنٹے کی تنخواہ حلال ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ سکول کا تنخواہ دار استاد اجیر خاص کے حکم میں ہوتا ہے اور اجیر خاص وہ ہوتا ہے، جو اپنے وقت کے بدلے اجرت کا مستحق ہوتا ہے، اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنا مقررہ وقت پورا کرے، چاہے اس وقت میں کوئی کام ہو یا نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق حکومت کی طرف سے جو وقت مقرر ہے سائل کو اس کا پورا کرنا ضروری ہے، اس سے پہلے جانا جائز نہیں ہے، اگرچہ کوئی کلاس نہ ہو اور وقت سے پہلے جانے کی صورت میں اس وقت کی تنخواہ لینا جائز نہیں ہے۔
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة. (رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الإجارة،ج:6،ص:69)
أن الأجير الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة. (فتح القدير،كتاب الإجارات،ج:9،ص:140)