بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
كنڈے كی بجلی سے تيارکیے گئے کهانے پينے اور نكالے گئے پانی کا حكم
سوال
کنڈے کی بجلی سے تیار کیے گئے کھانے پینے کا کیاحکم ہے؟اوراس سے نکالے گئے پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنے کاکیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہےکہ حکومت کی طرف سے عوام کے لیےجو سہولیات قیمتاََ فراہم کی جاتی ہیں تو ان میں حکومت کی طرف سے عوام کے لیے بنائے گیے قوانین پر عمل کرنا لازم ہے ان میں کسی قسم کی خیانت اور دھوکہ دینا سب عوام کی حق تلفی ہوتی ہو، اس لیے یہ ایک نہایت قبیح اور نا جائزعمل ہے،چنانچہ کنڈے لگا کرچوری سے بجلی کا استعمال کرنا نا جائز ہے،تاہم اگر اس سے کھانا پكایا جائےتو اس سے وہ حرام نہیں ہوتااور اس سے نکا لے گیے پانی سے وضو کرکے نماز پڑھناجائز ہے،لیکن بجلی کی چوری کی وجہ سے گناہ بہر حال ہوگا۔
قال اللہ تعالی: ﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [النساء: 59]
قال القهستاني: وهي نوعان؛ لأنه إما أن يكون ضررها بذي المال أو به وبعامة المسلمين، فالأول يسمى بالسرقة الصغرى والثاني بالكبرى، بين حكمها فی الآخر؛ لأنها أقل وقوعا وقد اشتركا في التعريف وأكثر الشروط اهـ أي؛ لأن المعتبر في كل منهما أخذ المال خفية، لكن الخفية في الصغرى هي الخفية عن عین المالك أو من يقوم مقامه كالمودع والمستعير. وفي الكبرى عن عين الإمام الملتزم حفظ طرق المسلمين وبلادهم كما في الفتح(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب السرقة،ج:6،ص:136)