بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
مسجد کے قریب کسی دفترمیں جماعت ادا کرنا
سوال
میری امامت ایک دفترمیں ہے دفترایسا ہےکہ باہرسے کسی کواندرآنےکی اجازت نہیں ہوتی دفترکااسٹاف ہی اندرنمازپڑھتا ہےاورہماراسیٹھ اوراس کے مہمان وہاں نمازپڑھتےہیں دفترکےایک کونے میں مصلی نما جگہ ہے وہاں پرباقاعدہ صفیں بچھی ہیں۔اب سوال یہ ہےکہ وہاں میری امامت کرانا کیسا ہے؟اگرچہ دفترکےساتھ مسجد بھی ہےلیکن سیٹھ اوران کےمہمان دفترمیں نمازپڑھتے ہیں۔
جواب
واضح رہے کہ نفس ِجماعت کےساتھ نمازپڑھنا واجب ہے البتہ مسجد میں جماعت ادکرنا سنت علی الکفایہ ہے یعنی اگراہل مسجد میں سےکچھ افراد بھی مسجدمیں جماعت کےساتھ نماز ادا کردیں تو سارےاہل مسجد کاذمہ فارغ ہوجاتاہے،ورنہ عدم ادائیگی کی صورت میں سارے اہل مسجد ترک سنت کی وجہ سے گناہ گارہوں گے۔چنانچہ جولوگ مسجد کی جماعت میں شریک ہوتے ہوں لیکن کبھی کبھارعذرکی بنا پریا بغیرعذرگھرمیں یا کسی دوسری جگہ جماعت سے پڑھ لیتے ہوں ان پر گناہ نہ ہوگالیکن یہ ضروری ہے کہ محلہ کی مسجد غیرآباد نہ ہوجائےاوربلاعذردائمی طورپرمسجد کی جماعت ترک نہ کی جائے۔
صورت مسئولہ کےمطابق اگرسیٹھ کواوران کے مہمانوں کومسجد میں جماعت کےساتھ نمازاداکرنے سےکوئی عذرشرعی مانع ہوتودفترمیں ان کی امامت کرانےميں كوئی حرج نہیں ۔
منها أن الجماعة واجبة وقد سماها بعض أصحابنا سنة مؤكدة وكلاهما واحد،وأصله ما روي عن النبي عليه السلام أنه واظب عليها وكذلك الأمة من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا مع النكير على تاركها وهذا حد الواجب دون السنة.(تحفة الفقهاء، ج: 1، ص: 227)
دل فعل هؤلاء أن الجماعة في المسجد سنة على سبيل الكفاية.(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص157)
الراجح عند أهل المذهب وجوب الجماعة وأنه يأثم بتفويتها اتفاقا.(ردالمحتار مع الدر المختار، ج:1، ص:396)
(قوله: من سمع الأذان) يفهم منه أنه لو لم يسمع لصمم أو لبعد أنه لا يجيب، وهو ظاهر الحديث الآتي إذا سمعتم الأذان حيث علق على السماع، وقد صرح بعض الشافعية بأنه الظاهر، وبأنه يجيب في جميعه إذا لم يسمع إلا بعضه.(ردالمحتار مع الدر المختار،ج:1، ص:396)
يجب السعي بالقدم لا لأجل الأداء في أول الوقت أو في المسجد، بل لأجل إقامة الجماعة.(ردالمحتار مع الدر المختار،ج:1، ص:396)
أنه لو جمع بأهله لا يكره وينال فضيلة الجماعة لكن جماعة المسجد أفضل. (ردالمحتار مع الدر المختار،ج:1، ص:396)