بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خاندانی کمیٹی میں زبردستی چندہ لینے کا شرعی حکم


سوال

ہم ایک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ خاندان کے افراد نے باہمی تعاون اور فلاحی امور کی انجام دہی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کا ایک سربراہ مقرر ہے۔ کمیٹی کے اراکین کی باہمی مشاورت سے یہ اصول طے پایا ہے کہ:خاندان کا ہر شناختی کارڈ رکھنے والا فرد ماہانہ 500 روپے کمیٹی کو ادا کرے۔جبکہ شادی شدہ افراد ماہانہ 1000 روپے ادا کریں۔یہ رقم عمومی فلاحی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔تاہم بعض ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اس ماہانہ رقم کو ادا کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے، مگر کمیٹی کے بعض صاحبِ حیثیت اراکین اور سربراہ ان کمزور افراد پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ مقررہ رقم لازماً ادا کریں، ورنہ انہیں خاندان کے واٹس ایپ گروپ سے خارج کر دیا جائے گا۔ کچھ لوگ شرمندگی سے بچنے کے لیے مجبوراً یہ رقم ادا کرتے ہیں، حالانکہ وہ دل سے راضی نہیں ہوتے۔کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فلاحی کاموں کے لیے چندہ کرنا مستحسن عمل ہے ، البتہ  اس میں ضروری ہے کہ  لوگوں سے بخوشی چندہ لیا جائےچنانچہ   زبردستی لوگوں سے پیسے جمع کروانا، انہیں اس کا پابند بنانا، یا نہ دینے پر ان کو شرمندہ کرنا شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی فلاحی کاموں کے لئے لوگوں سے زبردستی چندہ کرتا ہو تو اس صورت میں چندہ کرنا جائز نہیں ہے۔البتہ جو لوگ اپنی خوشی اور رضامندی سے چندہ دیں ان سے چندہ لینا اور رفاہی کاموں میں خرچ کرنا جائز ہے۔

 

عن عمرو بن يثربي، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " ألا ولا يحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه.( مسند الإمام أحمد بن حنبل، حديث عمرو بن يثربي، ج:34،ص:560)

لا يحل مال امرئ أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه.( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، باب الغاصب والعارية، ج؛5، ص:1974)


فتویٰ نمبر : 6622/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور