بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مسجد كے موقوفہ گھرکو کرایہ پر دینا
سوال
ہمارے محلے کی مسجد کے ساتھ ایک وقف شدہ گھر ہے جو امام مسجد کے واسطے تعمیر کیا گیا ہے، اس میں تقریباً25 سال تک ایک امام صاحب رہائش پذیر رہا، اس کے چلے جانے کے بعد دوسرا امام صاحب اس میں 6سال تک رہا، جب وہ چلا گیا تو ابھی تیسرا امام صاحب نہیں آیا تھا کہ مسجد کمیٹی والوں نے وہ گھر کسی کو کرایہ پر دیا ، اور اس کا کرایہ مسجد میں استعمال ہوتا رہا، اب جب نیا امام صاحب مقرر ہوا تو اس کو اس گھر کی ضرورت ہے کیونکہ وہ والدین کے ساتھ مشترکہ گھر میں رہ رہا ہے اور شادی شدہ بھی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ مسجد کے موقوفہ گھر کو عام حالات میں کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر مسجد کے پیشِ امام کو گھر کی ضرورت ہو تو اس صورت میں موقوفہ گھر کرایہ پر لگانا کیسا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جو عمارت مسجدکے مصالح کے لیے وقف کی جائے، تو اگر مسجد کو فی الحال استعمال کی ضرورت نہ ہو ، تو متولی مسجد وہ عمارت کسی کو کرایہ پر دے سکتا ہے،پھر کرایہ سے حاصل شدہ رقم مسجد فنڈ کا حصہ ہوگا،لیکن اگر مسجد کے مصالح میں اس کی ضرورت ہو تواس میں استعمال کیا جائے گا، نیز یہ کہ مسجد کا پیشِ امام بھی مسجد کے مصا لح میں سے ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق عام حالات میں تو مسجد کے موقوفہ گھر کو کرایہ پر دینا جائز ہے، لیکن جب پیشِ امام کو اس کی ضرورت ہو تو مسجد کی کمیٹی کو چاہیئے کہ کسی کو کرایہ پر دینے کی بجائے اس مسجد کے امام صاحب کو رہائش کے لیے دیں ۔
وتقطع الجهات للعمارة إن لم يخف ضرر بين. فتح. فإن خيف كإمام وخطيب وفراش قدموا... أي إن من يخاف بقطعه ضرر بين كإمام ونحوه يقدم أي على بقية المستحقين ممن ليس في قطعهم ضرر بين لا على العمارة فافهم، إلا أن يكون المراد العمارة الغير الضرورية، فإن الإمام يقدم عليها. (رد المحتارعلی الدرالمختار ، كتاب الوقف، ج:6، ص:562)
وفي شرحها للشرنبلالي عند قوله:ويدخل في وقف المصالح قيم … إمام خطيب والمؤذن يعبر الشعائر التي تقدم شرط أم لم يشترط بعد العمارة هي إمام وخطيب ومدرس ووقاد وفراش ومؤذن. (رد المحتار علی الدر المختار، ج:6، ص:566)
(ويؤجر) بأجر (المثل) ف (لا) يجوز (بالأقل.) (رد المحتارعلی الدرالمختار ، كتاب الوقف، ج:6، ص:607)