بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
ایک بیوہ، پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیم وراثت
سوال
ایک شخص فوت ہو چکا ہے اس کے ورثا میں سے ایک بیوہ، پانچ بیٹے اور ایک بیٹی زندہ موجود ہیں اب مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثا میں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟
جواب
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ(88)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی
11 14 14 14 14 14 7
بشرطِ صدق و ثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہوتو بعد از ادائے حقوقِ متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ اٹھاسی (88) حصوں میں تقسیم کرکےبیوہ کو 11/88 حصے، پانچ بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 14/88 حصے، جب کہ بیٹی کو 7/88 حصے ملیں گے۔
قال الله تعالى: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [النساء: 11]
وقال تعالى: ﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ [النساء: 12]