بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
چار سو سال پرانی جگہ کو مسجد قرار دینا
سوال
ایک جگہ پر ایک عمارت موجود ہے جو تقریباً چار سو سال پرانی ہےیہ معلوم نہیں کہ اس کی بنیاد کس نے رکھی اور یہ بھی واضح نہیں کہ ابتدا میں اسے مسجد، جنازگاہ یا عیدگاہ کے طور پر وقف کیا گیا تھا،البتہ درج ذیل قرائن و شواہد موجود ہیں:ابتدا ہی سے اس عمارت میں محراب بنی ہوئی ہے، جو بالعموم مسجد کی پہچان ہے۔اس عمارت کے ساتھ حوض کا انتظام موجود ہے، اور قدیم روایات کے مطابق پرانی مساجد میں وضو اور طہارت کے لیے باقاعدہ حوض بنایا جاتا تھا.یہ عمارت ایک ولی اللہ کے مزار کے ساتھ واقع ہے، اور عرف و تاریخ کے مطابق اولیاء کرام کے مزارات کے ساتھ عموماً مساجد قائم کی جاتی تھیں، نہ کہ محض جنازگاہ یا عیدگاہ۔سرکاری محکمہ آثارِ قدیمہ نے سن 1973ء میں اس عمارت کو بطور مسجد رجسٹر کیا ہے، تاہم حالیہ طور پر محکمہ آثارِ قدیمہ کا مؤقف یہ ہے کہ یہ عمارت ایک سرکاری عمارت ہے۔اگرچہ ابتدا میں یہاں پنج وقتہ نماز کے باقاعدہ ثبوت موجود نہیں، البتہ یہ بات معلوم ہے کہ یہاں نمازِ جنازہ اور عید کی نماز ادا ہوتی رہی ہے۔گزشتہ آٹھ سال سے یہاں باقاعدہ پانچ وقت کی باجماعت نماز اور نمازِ جمعہ عام مسلمانوں کے لیے مستقل طور پر ادا کی جا رہی ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ: شرعی اعتبار سے اس جگہ کا کیا حکم ہے؟اور یہ جگہ مسجد شمار ہوگی یا محض جنازگاہ یا عیدگاہ؟
جواب
واضح رہے کہ جس جگہ ایک مرتبہ مسجد بنا دی جائے تو وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے، اس کو دوسری جہات میں تبدیل کرنا جائز نہیں،اسی طرح اگر کسی جگہ قدیم عمارت ہو اور اس کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ یہ کس لیے وقف کی گئی تھی، توسرکاری کاغذات میں اگر اس کے جہتِ وقف کا ثبوت ہو یا وہاں جہتِ وقف کے نشانات موجود ہوں یا لوگ اس کے کسی جہتِ وقف کے گواہ ہوں ،تو وہ عمارت اسی جہت کے لیے وقف سمجھی جائے گی۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر واقعی مذکورہ عمارت کو متعلقہ سرکاری محکمہ میں بطورِ مسجد رجسٹر کرنے کا ثبوت ہو، اور لوگ اس کے مسجد ہونے کے گواہ ہوں،تو شرعی اعتبار سے یہ جگہ مسجد شمار ہوگی۔
وأما لو انقطع ثبوته ففي الخصاف: أن الأوقاف التي تقادم أمرها ومات شهودها فما كان لها رسوم في دواوين القضاة، وهي في أيديهم أجريت على رسومها الموجودة في دواوينهم استحسانا إذا تنازع أهلها فيها وما لم يكن لها رسوم في دواوين القضاة القياس فيها عند التنازع أن من أثبت حقا حكم له به. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الوقف، ج:6، ص:599)
مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره (قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي، وأكثر المشايخ عليه .مجتبى. وهو الأوجه فتح. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الوقف، ج:6، ص:548)