بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مشترکہ جنگلات میں عشر
سوال
ہمارے گاؤں کے سامنے بیلہ (جنگل) ہیں جوکہ پورے گاؤں کے مشترکہ ہیں، اب ہم نے اس کے درخت فروخت کردئیے ہیں کیا اس پر عشر آئے گا یا نہیں؟ اگر عشر واجب ہے تو کس حساب سے تقسیم کریں؟
جواب
واضح رہے کہ عشر واجب ہونے کے لئے اس زمین کا ملکیت میں ہونا ضروری نہیں جس سے فصل حاصل ہوئی ہو چنانچہ وقف زمین میں بھی عشر واجب ہوتا ہے، اسی طرح وہ پہاڑی درخت جو کسی کی ملکیت میں نہ ہوں لیکن باقاعدہ اس کی حفاظت کی جاتی ہوں، اور دوسروں کو اس کے کاٹنے سے منع کیا جاتا ہوں اور یہ قابلِ انتفاع بھی ہوں، تو ان میں بھی عشر واجب ہوتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ پہاڑی درختوں کی اگر حفاظت کی جاتی ہو، اور دوسروں کو اس سے منع کیا جاتا ہو، اور وہ قابلِ انتفاع بھی ہوں، توعشر واجب ہے، اور لکڑیوں کی قیمت آپس میں تقسیم کرنے سے پہلے عشر ادا کیا جائے یا تقسیم کے بعد ہر ایک اپنے حصے کے بقدر عشر ادا کرے۔
وكذا ملك الأرض ليس بشرط للوجوب؛ لوجوبه في الأراضي الموقوفة... وما يجمع من ثمار الأشجار التي ليست بمملوكة كأشجار الجبال يجب فيها العشر كذا في الظهيرية... فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر. (الفتاوی الهندية، كتاب الزكوة، جلد:1، ص:186)