بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مہر میں مقررہ کمرہ کی ادائیگی کا شرعی حکم
سوال
ایک شخص نے عقد نکاح میں بیوی کے لئے بطور مہر تین تولہ سونا اور ایک کمرہ مقرر کیا ۔اس کے بعد لڑکی کی رخصتی شوہر کے والد کے مشترکہ مکان میں ہوئی، جہاں ان کے والد اور بہن بھائی سب اکٹھے رہتے تھے۔چند سال تک شوہراور اس کی اہلیہ اسی گھر میں رہے، لیکن بعد میں گھریلو مسائل کی وجہ سے وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے والد کے دوسرے گھر میں منتقل ہو گئے۔ وہاں جا کر شوہر نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی۔اب سوال یہ ہے کہ مہر میں جو تین تولہ سونا اور ایک کمرہ مقرر کیا گیا تھا، اس کی ادائیگی کس طرح ہوگی؟کیا اس کمرے کی قیمت ادا کی جائے گی؟ اگر قیمت ادا کی جائے تو پہلے گھر کے کمرے کی قیمت دی جائے گی یا دوسرے گھر کے کمرے کی، جبکہ دونوں کی مالیت میں واضح فرق ہے؟نیزاگر کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم ہو تو کیا اس کی قیمت بھی شامل کی جائے گی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ نکاح کے موقع پر مہر میں اگر متعین کمرہ طے کیا گیا ہو، تو وہی متعین کمرہ دینا ضروری ہوتا ہے، اور اگر متعین کمرہ طے نہ کیا گیا ہو، بلکہ مطلقاً کمرہ طے کیا ہو، تو ایسی صورت میں متوسط درجے کا کمرہ یا اس کی قیمت بطور مہر لازم ہوتی ہے۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مہر میں کمر ے کا تعین نہ کیا گیا ہو یعنی رقبہ وغیرہ کا ذکر نہ کیا ہو تو اس صورت میں شوہر پر متوسط کمرہ لازم ہوگا یا اس کی قیمت لازم ہوگی اور متوسط کمرہ کےتعیین کا طریقہ یہ ہے کہ اس علاقے میں جومتوسط درجے کا کمرہ ہواسی کا اعتبار ہوگا، نیز اگر علاقے میں اکثر گھروں کے اندرکمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم کا رواج ہو تو کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم بھی لازم ہوگا۔
وإما غير معين فلا يخلو إما أن يكون مكيلا أو موزونا أو غيرهما، ففي غيرهما إن لم يعين الجنس بأن قال حيوان ثوب دار لم يصح ويجب مهر المثل بالغا ما بلغ…وإن عينه بأن قال عبد ، أمة ، فرس، حمار بيت صحت التسمية وإن لم يصفه، وينصرف إلى بيت وسط من ذلك، وكذا باقيها وهذا في عرفهم.(فتح القدیر،للکمال بن الھمام، کتاب النکاح، ض:3، ص:355)