بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حائضہ کا ماہواری کے ایام سمجھ کر روزہ توڑنا


سوال

رمضان المبارک میں ایک عورت کی ماہواری اپنی عادت کے مطابق ساتویں دن ختم ہوگئی۔ ماہواری کے ختم ہونے کے آٹھ دن بعد اس نے خون دیکھا، جو کہ استحاضہ شمار ہوتا ہے کیونکہ ابھی تک پاکی کے پندرہ دن پورے نہیں ہوئے تھے۔ اس حالت میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا دونوں فرض ہیں۔ لیکن اس نے یہ سمجھا کہ یہ دوبارہ ماہواری شروع ہوگئی ہے اور اس نے روزہ توڑ دیا۔ اب اس پرصرف قضا لازم ہوگی یا کفارہ بھی لازم ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی عورت کو خون کے بارے میں اشتباہ ہو جائے کہ یہ حیض کا خون ہے، حالانکہ  وہ استحاضہ ہولیکن اس کو اشتباہ ہوا ہو کہ اس کی ماہواری دوبارہ شروع ہوگئ ہےاور اسی غلط فہمی کی بنا  پر وہ روزہ توڑ دے، تو اس پر کفارہ لازم نہیں بلکہ صرف قضاء لازم ہوگی۔

صورت مسئولہ میں عورت کی ماہواری اپنی عادت کے مطابق سات دن میں ختم ہوگئی اور اس کے بعد آٹھ دن گزرنے پر اسے خون نظر آیا، حالانکہ اس کی پاکی کے پندرہ دن مکمل نہیں ہوئے تھے، تو یہ خون استحاضہ کا خون تھا، اس حالت میں اس پر نماز اور روزہ دونوں فرض تھے، لیکن چونکہ اسے اشتباہ ہوا کہ  یہ حیض کا خون ہے اور اس نے روزہ توڑ دیا، تو ا س پر کفارہ نہیں بلکہ صرف اس روزے کی قضا لازم ہوگی۔

 

(ولو قدم مسافر أو طهرت حائض أو تسحر ظنه ليلا والفجر طالع أو أفطر كذلك والشمس حية أمسك يومه وقضى ولم يكفر كأكله عمدا بعد أكله ناسيا ونائمة ومجنونة وطئتا) يعني هؤلاء كلهم يجب عليهم الإمساك في بقية النهار تشبها ويجب عليهم قضاء ذلك اليوم ولا تجب عليهم الكفارة كما لا تجب على من أكل ناسيا ثم أكل عمدا. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،کتاب الصوم،باب ما یفسد الصوم ومالا یفسدہ،ج:1، ص:3429)

‌ولو ‌أكل ‌أو ‌شرب ‌أو ‌جامع ‌ناسيا ‌أو ‌ذرعه ‌القيء فظن أن ذلك يفطر فأكل بعد ذلك متعمدا، فعليه القضاء ولا كفارة عليه، لأن الشبهة ههنا استندت إلى ما هو دليل في الظاهر لوجود المضاد للصوم في الظاهر وهو الأكل والشرب والجماع. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الصوم،فصل حکم فسادالصوم،ج:2،ص:100)


فتویٰ نمبر : 10888/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور