بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
والد كا اپنا مال بيٹوں ميں تقسيم كرنا اور بیٹیوں كو محروم ركهنا
سوال
اگرایک شخص اپنی زندگی میں سوائے کچھ محدود مال کے اپنا تمام مال اور جائیداد اپنے بیٹوں کی ملکیت میں دے دے اور اپنی بیٹیوں کو کچھ بھی نہ دے اور بیٹیاں اس بات سے ناواقف ہوں کہ ہمارے والد نے سوائے کچھ محدود مال کے اپنا تمام مال اپنے بیٹوں کو دیا ہے اور ہم کو محروم رکھا ہے پھر وہ شخص یہ کام کرنے کے بعد دس سال تک زندہ رہے اور پھر فوت ہوجائے اور اس کی فوتگی کے سولہ سال بعد اس شخص کی بیٹیاں اس کے بیٹوں سے اپنے والد کےمیراث میں سے اپنا حصہ طلب کرے یعنی بہنیں اپنے بھائیوں سے یہ مطالبہ کریں کہ جو کچھ مال آپ بھائیوں کے پاس ہے وہ میراث ہے اور ہمیں اس میں سے اپنا حصہ دیا جائے ۔تو سوال یہ ہے کہ کیا بیٹوں کو اپنے والد کی طرف سے زندگی ہی میں ملکیتا دیا گیا مال بھی اس محدود مال کی طرح میراث تصور کیا جائے گا یا یہ کہ والد کی زندگی میں اپنے بیٹوں کو دیئے گئے مال کو میراث سے مستثنی سمجھا جائےگا اور صرف اس محدود مال پر ہی میراث کا حکم جاری ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ باپ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنے کا حق رکھتا ہے۔ البتہ شریعت بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان انصاف سےتقسیم کا حکم دیتی ہے ۔ چنانچہ اگر کوئی اپنا مال صرف بیٹوں کو دے دے اور بیٹیوں کو اس سے محروم رکھے تو وہ سخت گناہ گار ہوگا، تاہم اگر کوئی شخص صرف بیٹوں کو ہبہ کرلے اور بیٹے والد کی زندگی میں اس پر قبضہ بھی کرلیں تو وہ ان ملکیت بن جائے گی،لہذا والد کی وفات کے بعد وہ مال میراث نہیں بنے گا۔
صورتِ مسئولہ میں باپ نے بیٹوں کو اپنے مال سے جو کچھ ہبہ کیا تھا اگر ان کو قبضہ بھی دے دیا تھا تو وہ بیٹےاس کے مالک شمار ہوں گے اوریہ مال میراث میں شامل نہیں ہوگا،لیکن اگر والد نے صرف زبانی طور پر ہبہ کیا تھا یا صرف کا غذات میں بیٹوں کے نام کیا تھا جبکہ اپنی زندگی میں قبضہ ان کو منتقل نہیں کیا تھا تو پھر ہبہ تام نہ ہونے کی وجہ سے یہ مال بھی میراث میں شمار ہوگا۔
وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الهبة، ص:562)
عن النعمان بن بشير رضي الله عنه قال: نحلني أبي نحلاً ثم أتى بي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ليشهده. فقال "أكل ولدك أعطيته هذا؟ " قال: لا. قال "أليس تريد منهم البر مثل ما تريد من ذا؟ " قال: بلى. قال "فإني لا أشهد".(صحيح مسلم، باب تفضيل بعض الأولاد على بعض في الهبة، ج:2، ص:395، رقم الحديث:3678)