بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مہر میں کمرہ مقرر کرنا


سوال

ایک شخص نے اپنے ماموں کی بیٹی سے نکاح کیا اور مہرمیں "ایک کمرہ" مطلق مقرر کیا، شادی کے بعد شوہر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ والد کے گھر میں بیوی کے ہمراہ آٹھ سال تک رہائش پذیر رہا، اور اس گھر میں وہ ایسے کمرے میں رہ رہا تھا جس میں  attach bathتھا،پھر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، اب سوال یہ ہے کہ عورت کو مہر میں وہی کمرہ ملے گا جس میں وہ شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھی یا متوسط درجہ کے کمرے کے رقبے کا حساب لگایا جائے گااورattach bath بھی کمرے کے حساب میں داخل ہوگا یا نہیں؟ نیز شوہر کی والدہ کا جو حصہ اس کے ماموں  کے پاس موجود ہے اس  پر کمرہ بنا کر یا اس کو معاوضہ کے طور پر ماں کی رضا مندی سے بیوی کو مہر میں دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر عقدِ نکاح کے وقت  متعین  چیز بطورِ مہر  مقرر کی جائے تو وہی شوہر کی ذمہ لازم ہوجاتی ہےاور اگر مہر میں ایسی چیز مقرر کی گئی جس کی نوع  معلوم ہو ،لیکن اوصاف معلوم نہ ہو ں تو ایسی صورت میں متوسط درجہ کی وہ چیز لازم ہوگی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جب عقدِ نکاح میں صرف "کمرہ" ذکر کیا گیا  اس کے اوصاف یعنی رقبہ وغیرہ ذکر نہیں کیاگیاتو شوہر کے ذمے ایک متوسط درجے کا کمرہ لازم ہوگا، اور اگر اس علاقے کے   اکثر گھروں میں متصل باتھ روم کا رواج ہو  تو کمرے کے حساب میں متصل باتھ روم بھی داخل ہوگا، نیز  یہ کہ بیوی کا مہرشوہر  کے ذمے واجب ہوتا ہے اور شوہر کی والدہ  کا حق اس کے بھائی کے  ذمے ہےاس لیے محض اس حق کا حوالہ دے کر مہر سے جان چھڑانا جائز نہیں ۔

 

وإما غير معين فلا يخلو إما أن يكون مكيلا أو موزونا أو غيرهما، ففي غيرهما إن لم يعين الجنس بأن قال حيوان،ثوب، دار لم يصح ويجب مهر المثل بالغا ما بلغ... وإن عينه بأن قال عبد، أمة، فرس، حمار، بيت صحت التسمية وإن لم يصفه، وينصرف إلى بيت وسط من ذلك، وكذا باقيها وهذا في عرفهم. (فتح القدير للكمال بن الهمام ، كتاب النكاح، ج:3، ص:355)

ولو تزوج على بيت ينظر إن كان الرجل بدويا فلها بيت شعر، وإن كان الرجل بلديا قال محمد - رحمه الله تعالى  لها بيت وسط أراد به أثاث البيت إلا أنه كنى عن الأثاث بالبيت لاتصال بينهما قالوا وهذا في عرفهم. (الفتاوی الهندية، كتاب النكاح، ج:1، ص:376)


فتویٰ نمبر : 7378/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور