بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
تین بیٹیوں اور دو پوتوں کے درمیان تقسیمِ میراث
سوال
ایک شخص فیض محمد کا انتقال ہو چکا ہے ، جس کے ورثا میں سے تین بیٹیاں(رضیہ بیگم، بی بی، اور سلور بیگم) اور دو پوتے(نوراسلام، ارشاد) موجود تھے، جب کہ فیض محمد کے ایک بیٹے سلام کا انتقال باپ کی زندگی میں ہو اتھا، اب مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثا میں کیسے تقسیم ہوگا؟
جواب
ميـــــــ(فیض محمد)ـــــــــــــ(18)ــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹی بیٹی بیٹی پوتا پوتا
رضیہ بیگم بی بی سلوربیگم نورسلام ارشاد
4 4 4 3 3
بشرطِ صدق وثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی زندہ وارث موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوقِ متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ اٹھارہ (18) حصوں میں تقسیم ہو کر تین بیٹیوں(رضیہ بیگم، بی بی، اور سلور بیگم)میں سے ہر ایک کو 4/18 حصے، جبکہ دو پوتوں(نوراسلام، ارشاد)میں سے ہر ایک کو 3/18 حصے ملیں گے۔
قال الله تعالی:﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ﴾ (سورۃ النساء، آیت:11)
عن ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر. (صحيح البخاري، کتاب الفرائض، رقم الحدیث:6732، ج:8، ص:150)