بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دوبارہ فرض نماز کی امامت کرانا


سوال

اس سے متعلق رہنمائی فرمائیں کہ اگر امام نے ظہر کی نماز کی ایک رکعت پڑھائی، اور سجدے کے بعد یاد آیا کہ وہ تو یہ نماز پہلے ہی ادا کرچکے ہیں، تو ایسی صورت میں امام کے لیے بہتر طریقہ کیا ہے؟ فوراً سلام پھیر دے اور مقتدیوں کو صورتحال سے آگاہ کرے؟ یا ایک اور رکعت مکمل  کرے، پھر سلام پھیر کر بعد میں بتائے کہ وہ نماز پڑھ چکے تھے؟

جواب

جو امام ایک دفعہ  کوئی فرض نمازپڑھا چکا ہو، وہ دوبارہ وہی نماز،دوسروں کونہیں پڑھاسکتا،کیونکہ اس صورت میں پڑھانے والےکی اپنی نماز نفل ہوگی، جبکہ اس کی اقتدا میں نماز ادا کرنے والوں کی فرض ہوگی، اور فرض نماز پڑھنے والا نفل والے کی اقتدا نہیں کرسکتا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  جب کوئی امام ایک مرتبہ  ظہرکی فرض نماز ادا کرچکا ہو،اور غلطی سے  دوبارہ ظہر کی فرض نماز کی امامت کے لیے کھڑاہو جائے، اور ایک رکعت ادا کرنے  کے بعد یاد آئے کہ وہ تو فرض نماز پہلے ہی ادا کرچکا ہے، تو ایسی صورت میں امام کے لیے بہتر  صورت یہ ہے کہ وہ دو رکعت مکمل کرکے سلام پھیر دے اور مقتدیوں کو بتادے کہ وہ فرض پڑھ چکا تھا،اس لیے یہ دو رکعتیں نفل ہوگی اور آپ فرض نماز پڑھ لیں۔

 

قال الله تعالى:{ولا تبطلوا أعمالكم} ‌يمنع ‌الخروج ‌منه ‌قبل ‌إتمامه لنهي الله تعالى إياه عن إبطاله; وإذ ألزمه إتمامه فقد وجب عليه قضاؤه إذا خرج منه قبل إتمامه معذورا كان في خروجه أو غير معذور.(أحكام القرآن للجصاص،سورة محمد،آية:33 ،ج:1،ص:288)

ومن صلى ركعة من الظهر ثم أقيمت يصلي أخرى صيانة للمؤدى عن البطلان۔ ( الهداية، كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، ج:2، ص:562)


فتویٰ نمبر : 10882/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور