بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بیٹیوں کے درمیان زندگی میں جائیداد کی تقسیم
سوال
ايک شخص کی تین بیٹیاں اور دو بھائی ہیں اس کے پاس اپنی محنت سے کمائی ہوئی جائیداد ہےجو اسے اپنے والدین سے وراثت میں نہیں ملی اس جائیداد میں ایک کمرشل پلاٹ بھی ہے یہ شخص چاہتا ہے کہ اپنی زندگی میں بیٹیوں کو اس پلاٹ کا مالک بنا دے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس شخص کے لئے اپنی زندگی میں بیٹیوں کو اس کمرشل پلاٹ کا مالک بنانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ والد اگر زندگی میں اپنے مال وجائیداد کو اولاد کے درمیان تقسیم کر کے ان کو قبضہ بھی حوالہ کر دے تو یہ اس کی طرف سے ہبہ شمار ہوگا۔ اس میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی ہو سب کو برابر دے، اس طرح والد ین کو یہ بھی اختیار ہے کہ معقول و معتبروجہ کی بنا پر کسی کے ساتھ ترجیحی سلوک کریں۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگرکوئی شخص زندگی میں اپنا کمرشل پلاٹ اپنی بیٹیوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو تقسیم کرسکتا ہے ۔
وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الهبه، ج:6، ص:127)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم) .الدر المختار شرح تنوير الأبصار، ص562)